July 5, 2020

News PK

Latest Updates

ایک سیکنڈ میں 44.2 ٹیرا بٹس ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کرنے والی مائیکروچپ کا تجربہ کامیاب

57

ایک سیکنڈ میں 44.2 ٹیرا بٹس ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کرنے والی مائیکروچپ کا تجربہ کامیاب

ایک سیکنڈ میں 44.2 ٹیرا بٹس ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کرنے والی مائیکروچپ کا تجربہ کامیاب
ایک سیکنڈ میں 44.2 ٹیرا بٹس ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کرنے والی مائیکروچپ کا تجربہ کامیاب

آسٹریلوی سائنسدانوں نے ایک مائیکروچپ میں روشنی کے واحد ماخذ (سورس) سے 44.2 ٹیرا بٹس ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

اس آلے کو انہوں نے مائیکروکومب کا نام دیا ہے جو انٹرنیٹ کو بالکل نئے انقلاب سے دوچار کرے گا۔ اس سے دنیا بھر کے سائنسی اور کاروباری حلقوں میں برق رفتار ڈیٹا کو یقینی بنایا جاسکے گا۔ اگرچہ مائیکروکومب چپس کا نام نیا نہیں ہے لیکن اب اس میں حیرت انگیز کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

اسے بنانے میں سوائن برن، آرایم آئی ٹی اور موناش یونیورسٹی کے ماہرین نے یکساں کردار ادا کیا ہے۔ سوائن برن یونیورسٹی میں آپٹیکل سائنسِس کے شعبے کے سربراہ ، ڈیوڈ موس نے بتایا کہ اب الٹرا ہائی بینڈ وڈتھ فائبر آپٹک رابطے کا پھل بالکل سامنے آچکا ہے۔ صرف ایک آپٹیکل فائبر ماخذ سے چپ پر اس رفتار سے ڈیٹا بھیجنے کا یہ ایک نیا عالمی ریکارڈ بھی ہے۔

خود آسٹریلیا میں ٹی وی شو اور فلموں کو بلند پکسل پر دیکھنے کے لیے صارفین مسلسل تیزرفتار ڈیٹا کا مطالبہ کرتے آئے ہیں اور اسی کے پیشِ نظر تینوں جامعات نے اس پر کام شروع کیا ہے۔ اس کے لیے بہت سی ٹیکنالوجی پر پہلے سے کام جاری تھا لیکن مائیکروکومب سے نہایت حوصلہ افزا نتائج ملے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ مختلف فری کوئنسیوں پر پھینکی جانے والی لیزر شعاعوں سے مختلف چینل وجود میں آتے ہیں اور اس طرح انعطافی ٹیوبوں کے ذریعے لگ بھگ 80 چینل قائم کرنا ممکن ہے۔ کاغذوں پر یہ منصوبہ آسان لگا لیکن عملی طور پر اس کے لیے ماہرین نے عملی نمونے والے آلے کو 76 کلومیٹر دور دونوں جامعات کے درمیان ڈارک آپٹک کیبل کے کناروں پر رکھا۔

معلوم ہوا کہ ہر چینل کے ڈیٹا بھیجنے اور وصول کرنے کی استعداد بڑھ گئی اور آخری حد تک 44 ٹیرابٹ فی سیکنڈ کی رفتار حاصل ہوئی جو غیرمعمولی کامیابی بھی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ ایجاد ویڈیو اور نیٹ فلِکس دیکھنے کے مقابلے میں دیگر سنجیدہ شعبوں کے لیے بہت ضروری ہے جن میں ای کامرس، ٹیلی میڈیسن، طبی تعلیم اور ازخود چلنے والی گاڑیاں شامل ہیں۔ جامعات نے امید ظاہر کی ہے کہ صرف چند سال میں یہ ٹیکنالوجی نہ صرف آسٹریلیا بلکہ پوری دنیا کے لیے عام دستیاب ہوسکے گی۔