May 26, 2020

News PK

Latest Updates

بھارت سے سرحدی کشیدگی،نیپال نے نیا نقشہ جاری کردیا، آباؤ اجداد کی زمین کی حفاظت کریں گے، نیپالی وزیراعظم

54

بھارت سے سرحدی کشیدگی،نیپال نے نیا نقشہ جاری کردیا، آباؤ اجداد کی زمین کی حفاظت کریں گے، نیپالی وزیراعظم

کراچی (نیوز ڈیسک) بھارت سے سرحدی تنازع پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد نیپالی کابینہ نے پیر کے روز نئے سیاسی نقشے کی توثیق کردی ہے، اس نئے نقشے میں لیپولیکھ، کالاپانی اور لیمپیادرا کو نیپال کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے جس پر بھارت کا قبضہ ہے۔   غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق نیپالی حکومت بہت جلد نیا سیاسی نقشہ شائع کردے گی جس میں سرحدی علاقوں لیپولیکھ، کالاپانی اور لیمپیادرا کو نیپال کا حصہ ظاہر کیا جائے گا۔ ان علاقوں کو بھارت نے زبردستی اپنی حدود میں شامل کیا ہوا ہے۔   اس حوالے سے کابینہ کا اجلاس نیپالی وزیراعظم کے پی اولی کی سرکاری رہائش گاہ پرہوا۔ نیپالی وزیر لینڈ منیجمنٹ پدما اریال نے نیا سیاسی نقشہ کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا۔   نیپال کے وزیر خارجہ پردیپ کمار گاہوالی نے کہا کہ وزیر اعظم نے کابینہ اجلاس میں کہا کہ حکومت اپنے آباو اجداد کی زمین کی حفاظت کرے گی۔ انھوں نے تمام رہنماوں سے اس معاملے پر تحمل سے کام لینے کی گذارش بھی کی ہے۔   نیپال مزدور کسان پارٹی کے ممبر پارلیمان پریم سوال نے اس میٹنگ کے بعد بتایا وزیر اعظم نے تمام رہنماں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ بھارت کی حمایت میں اس زمین پر اپنا دعوی نہیں چھوڑیں گے۔ بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ 8 مئی کو لیپولیکھ کے قریب ہوکر گزرنے والے اتراکھنڈ مانسرور روڈ کا افتتاح کیا تھا۔  لیپولیکھ وہ علاقہ ہے جہاں چین، نیپال اور انڈیا کی سرحدوں سے متصل ہے۔نیپال انڈیا کے اس قدم کے بارے میں ناراض ہے۔ لیپولیکھ میں قبضے کے معاملے پر نیپال میں انڈیا مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔  وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی حکومت نے اس سلسلے انڈیا کے سامنے لپو لیکھ علاقے پر نیپال کے دعوی کے دوہراتے ہوئے سخت الفاظ میں سفارتی احتجاج درج کرایا ہے۔  اتراکھنڈ کے دھارچولہ علاقے کے مشرق میں مہا کالی ندی کے کنارے نیپال کا دارچولہ علاقہ واقع ہے۔ مہا کالی ندی انڈیا کی سرحد کے طور پر کام کرتی ہے۔  نیپال کی حکومت کا کہنا ہے بھارت نے اس کے لیپولیکھ علاقے میں 22 کلو میٹر لمبی سڑک تعمیر کی ہے۔نیپال نے اس قبل بھی 2019 کے نومبر میں بھارت کے سامنے اپنا احتجاج درج کرایا تھا۔

کراچی (نیوز ڈیسک) بھارت سے سرحدی تنازع پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد نیپالی کابینہ نے پیر کے روز نئے سیاسی نقشے کی توثیق کردی ہے، اس نئے نقشے میں لیپولیکھ، کالاپانی اور لیمپیادرا کو نیپال کا حصہ ظاہر کیا گیا ہے جس پر بھارت کا قبضہ ہے۔ 

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق نیپالی حکومت بہت جلد نیا سیاسی نقشہ شائع کردے گی جس میں سرحدی علاقوں لیپولیکھ، کالاپانی اور لیمپیادرا کو نیپال کا حصہ ظاہر کیا جائے گا۔ ان علاقوں کو بھارت نے زبردستی اپنی حدود میں شامل کیا ہوا ہے۔ 

اس حوالے سے کابینہ کا اجلاس نیپالی وزیراعظم کے پی اولی کی سرکاری رہائش گاہ پرہوا۔ نیپالی وزیر لینڈ منیجمنٹ پدما اریال نے نیا سیاسی نقشہ کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا۔ 

نیپال کے وزیر خارجہ پردیپ کمار گاہوالی نے کہا کہ وزیر اعظم نے کابینہ اجلاس میں کہا کہ حکومت اپنے آباو اجداد کی زمین کی حفاظت کرے گی۔ انھوں نے تمام رہنماوں سے اس معاملے پر تحمل سے کام لینے کی گذارش بھی کی ہے۔ 

نیپال مزدور کسان پارٹی کے ممبر پارلیمان پریم سوال نے اس میٹنگ کے بعد بتایا وزیر اعظم نے تمام رہنماں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ بھارت کی حمایت میں اس زمین پر اپنا دعوی نہیں چھوڑیں گے۔ بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ 8 مئی کو لیپولیکھ کے قریب ہوکر گزرنے والے اتراکھنڈ مانسرور روڈ کا افتتاح کیا تھا۔

لیپولیکھ وہ علاقہ ہے جہاں چین، نیپال اور انڈیا کی سرحدوں سے متصل ہے۔نیپال انڈیا کے اس قدم کے بارے میں ناراض ہے۔ لیپولیکھ میں قبضے کے معاملے پر نیپال میں انڈیا مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی حکومت نے اس سلسلے انڈیا کے سامنے لپو لیکھ علاقے پر نیپال کے دعوی کے دوہراتے ہوئے سخت الفاظ میں سفارتی احتجاج درج کرایا ہے۔

اتراکھنڈ کے دھارچولہ علاقے کے مشرق میں مہا کالی ندی کے کنارے نیپال کا دارچولہ علاقہ واقع ہے۔ مہا کالی ندی انڈیا کی سرحد کے طور پر کام کرتی ہے۔

نیپال کی حکومت کا کہنا ہے بھارت نے اس کے لیپولیکھ علاقے میں 22 کلو میٹر لمبی سڑک تعمیر کی ہے۔نیپال نے اس قبل بھی 2019 کے نومبر میں بھارت کے سامنے اپنا احتجاج درج کرایا تھا۔