May 26, 2020

News PK

Latest Updates

مچھلی کے فارموں میں روبوٹ کچھوے نے ماہیگیروں کے کام کے دباؤ کو کم کردیا

59

مچھلی کے فارموں میں روبوٹ کچھوے نے ماہیگیروں کے کام کے دباؤ کو کم کردیا

یہ ربورٹ کچھوا جس کا نام یو کیٹ رکھا گیا ہے یہ مچھلی فارمز کے اندر تہہ تک جا کر مچھلیوں کی صحت اور صفائی کی دیکھ بھال کو بہتر بنائے گا۔

اس ربوٹ کچھوے کے ساتھ مزید سینسر بھی لگائے جا سکتے ہیں

اس سے قبل یہ کام انسانی غوطہ خور انجام دیتے رہے ہیں لیکن جب مچھلیوں سے بھرے چھوٹے تالاب میں انسان تیرتا ہے تو اس سے مچھلیاں پریشان ہوتی ہیں اور انسانی مداخلت سے وہ مستقل بیمار بھی ہوسکتے ہیں۔ اسی بنا پر روبوٹ کچھوا بنایا گیا ہے۔ عام طور پر ایسے روبوٹ ریموٹلی آپریٹڈ وھیکل یا آر او وے کہلاتے ہیں۔

ایسٹونیا میں واقع ٹیلن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس روبوٹ کچھوے کا نام یو کیٹ رکھا ہے جو ماہی گیری کے بڑے فارموں کی گہرائی تک پہنچ کر صفائی، مچھلیوں کی صحت یا کسی بیماری وغیرہ کی خبر دیتا ہے۔ ۔

ماہرین کے مطابق اس کچھوے پر بہت کم لاگت آئی ہے جو ایکواکلچر کا بہترین نگران بن سکتا ہے۔ اس طرح سمندری جانوروں کی بہت سی اقسام کے آبی جاندار بنائے جاسکتے ہیں جن سے زندہ مچھلیاں انسیت محسوس کرتی ہیں۔ پھر انہیں لاتعداد مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یوکیٹ کی ویڈیو میں اس کی افادیت دیکھی جاسکتی ہے جبکہ یہ تحقیقات رائل سوسائٹی کے اوپن سائنس جرنل میں شائع ہوئی ہیں۔