March 5, 2021

News PK

Latest Updates

نجی سطح پر کورونا ویکسین کی فروخت، ڈاکٹر ظفر مرزا کی حکومت کی کورونا ویکسین پالیسی پر تنقید … پرائیویٹ سیکٹر کو ویکسین من مانی قیمت پر فراہم کرنے کی چھوٹ دینے کا فیصلہ … مزید

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ 17 فروری 2021ء) وزیراعظم عمران خان کے سابق معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے حکومت کی جانب سے جاری کی گئی کورونا ویکسین پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر کو ویکسین من مانی قیمت پر فراہم کرنے کی چھوٹ دینے کا فیصلہ اخلاقی طور پر غلط ہے ۔ خبررساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ حکومت کی طرف سے پرائیویٹ سیکٹر کو ویکسین کی درآمد کی اجازت دینا اور پھر قیمت پر کنٹرول نہ رکھنا اخلاقی طور پر غلط ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا بھر وبا پھیلی ہوئی ہے اور جن لوگوں کو ترجیحی بنیادوں پر ویکیسن لگنی چاہیے ان کو تو لگ نہیں رہی جبکہ پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے صرف ان لوگوں کو لگے گی جو خرید سکتے ہیں تو یہ سماجی ناانصافی ہوگی۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر ظفر مرزا نے اپنی بات کو سمجھانے کے لیے انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’فرض کیا ایک 60 سال کے شہری کو ویکیسن نہیں لگی اور اس کا امیر ہمسایہ کم عمر ہو کر بھی ویکسین لگوا لے گا تو غریب اور امیر کے درمیان ناانصافی کا ماحول بنے گا۔

‘ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں حکومت پاکستان نے نجی اداروں کو کورونا ویکسین درآمد کرنے کی اجازت دی تھی ۔ جبکہ اس کے بعد وفاقی کابینہ کی جانب سے وزارت صحت کے اصرار پر کورونا ویکیسن کی قیمت مقرر کرنے کی چھوٹ دی گئی ، جس کے لیے کورونا ویکسین درآمد کرنے والی کمپنیوں کو ڈرگ پرائسنگ پالیسی اور ڈرگ ایکٹ 1976سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
میڈیا ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وزارت صحت نے وفاقی کابینہ سے کہا کہ بہت سے طبقات کورونا ویکسین کے حوالے سے حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں جو کہ پرائیویٹ مارکیٹ سے ویکیسن خریدیں گے ، جن کے لیے کورونا ویکیسن کی قیمت مقرر نہیں کرسکتے کیوں کہ ہمارے پاس اس حوالے سے کسی بھی قسم کے بینچ مارک نہیں ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزارت صحت کی سفارش پر کابینہ نے کہا کہ اس سے ویکیسن کی قیمتیں بڑھ جائیں گی اور کمپنیاں عوام کا استحصال کریں گی ، جس کی وجہ سے حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا ، تاہم وزارت صحت کی جانب سے اصرار کیا گیا کہ فی الحال 6 ماہ تک کورونا ویکسین کی قیمت مقرر نہ کی جائے ، جس کے بعد حکومت کی جانب سے کورونا ویکسین درآمد کرنے والی کمپنیوں کو ڈرگ پرائسنگ پالیسی اور ڈرگ ایکٹ 1976سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔