March 1, 2021

News PK

Latest Updates

احسان اللہ احسان کیسے بھاگا،ملالہ کا عمران خان سے سوال

نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے وزیراعظم عمران خان اور پاک فوج کے ترجمان سے پوچھا ہے کہ طالبان کا سابق ترجمان احسان اللہ احسان سیکیورٹی اداروں کی حراست سے کیسے فرار ہوا۔

بی بی سی اردو نے گزشتہ روز ملالہ یوسفزئی کا انٹرویو کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ آبائی علاقہ سوات ان کو جان سے زیادہ عزیز جبکہ برمنگھم ان کا دوسرا گھر ہے۔ سوات میں قاتلانہ حملے کے بعد ملالہ یوسفزئی کو علاج کیلئے برمنگھم منتقل کیا گیا تھا۔ تب سے وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ برطانیہ میں ہی مقیم ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے انٹرویو کے شائع ہونے کے بعد ٹوئٹر پر ملالہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ملالہ جی! آپ جلد اپنے پہلے گھر تشریف لائیے، آپ اور آپ کے والد صاحب کیساتھ ابھی بہت سارا حساب باقی ہے۔ آپ کے ذمے جو قرض واجب الادا ہے وہ آپ سے وصول کرنا ہے۔ اس دفعہ حساب کتاب کے لیے ماہر بندہ بھیج دیا جائے گا تاکہ کوئی شک باقی نہ رہے۔

اس پر ملالہ یوسفزئی نے ٹوئٹر پر بیان دیا کہ یہ تحریک طالبان پاکستان کا سابق ترجمان ہے جس نے مجھ پر قاتلانہ حملے سمیت دیگر بے گناہ لوگوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ اب یہ سوشل میڈیا پر لوگوں کو دھمکیاں دے رہا ہے۔

ملالہ یوسفزئی نے وزیراعظم عمران خان اور ڈی جی آئی ایس پی آر کو ٹوئٹر پر مینشن کرتے ہوئے پوچھا کہ احسان اللہ احسان سیکیورٹی اداروں کی حراست سے کیسے فرار ہوا۔

احسان اللہ احسان نے دوبارہ ملالہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ جن لوگوں سے سوال پوچھ رہی ہیں، ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔ آپ چاہتی ہیں تو میں خود ہی اپنے فرار ہونے کی کہانی سنا دیتا ہوں۔ یاد رکھو میں ڈی جی آئی ایس پی آر اور عمران خان جیسا جھوٹا نہیں ہوں۔‘

دوسری جانب وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیک اکاؤنٹ ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کیلئے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے۔ اس فیک اکاؤنٹ کی تفصیلات متعلقہ اداروں اور ٹوئٹر کو ارسال کردی ہیں۔ چند شرپسند عناصر کو سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت کا پرچار نہیں کرنے دیں گے۔

متعلقہ خبریں