March 2, 2021

News PK

Latest Updates

عمران خان کے ساتھ کھیلنے والا سابق ٹیسٹ کرکٹر بچوں کی خاطر بریانی بیچنے پر مجبور … ساری عمر صرف کرکٹ ہی کھیلی ہے، امید ہے کہ عمران خان میری خدمات سے فائدہ اٹھانے کا بھی … مزید

لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 15 فروری 2021ء ) سابق ٹیسٹ کرکٹر مسعود انوار کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ پرفارمر کو ہمیشہ موقع دیتے ہیں، امید ہے کہ وہ میری خدمات سے بھی فائدہ اٹھانے کے احکامات جاری کریں گے۔ ”اردو پوائنٹ“ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں53سالہ مسعود انوار کا کہنا تھا کہ انہوں نے 1983ء میں ملتان ڈویژن کی جانب سے لاہور ڈویژن کے خلاف اپنا فرسٹ کلاس ڈیبیوکیا تھا اور پہلے ہی میچ کی ایک اننگز میں 8وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ بھی سرانجام دیا جب کہ 3میچز میں 21وکٹیں حاصل کیں۔شاہد انوار کا مزید کہنا تھا کہ اس کے بعد انہوں نے 1984ء میں پاکستان آٹو موبائلزکارپوریشن کی ٹیم میں شمولیت اختیار کرلی جس کے کوچ غفار خان اورکپتان شاہد محبوب تھے جب کہ وسیم اکرم،اعجاز احمد، آف سپنرمیاں فیاض اورشوکت مرزا بھی اس ٹیم کا حصہ تھے،شاہد انوار کے مطابق پاکستان آٹو موبائلزکارپوریشن کے لیے3 سیزن کھیل کر وہ 1987ء میں یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ(یو بی ایل) کی ٹیم کا حصہ بن گئے جس میں شفیق احمد پاپا،منصور اختر،توصیف احمد اور اشرف علی جیسے ٹیسٹ کرکٹر شامل تھے جب کہ سکندر بخت اس ٹیم کے کپتان تھے،انہوں نے1987ء سے1996ء تک یوبی ایل کیلئے کھیلااور اس دوران فیصل آباد کے لیے د و سیزن بطور مہمان پلیئر کھیلا،ایک سیزن میں انہوں نے ٹھٹھہ میں کھیلے گئے فائنل میں کراچی کے خلاف قائد اعظم ٹرافی میں لاہور کی نمائندگی بھی کی ، اس میچ میں لاہور کی ٹیم میں نوجوان عبدالرزاق شامل تھے جب کہ کراچی ٹیم میں شاہد آفریدی شامل تھے جو پہلی اننگز میں ان کے 5شکاروں میں سے ایک شکار تھے۔

(جاری ہے)

مسعود انوار کا کہنا تھا کہ ان کی پیدائش خانیوال کی ہے اور خانیوال کرکٹ کلب سے انہوں نے کرکٹ شروع کی تھی،اس کلب سے کھیلنے والے سبط حسن،طارق جاوید ،محمد جمیل فرسٹ کلاس کرکٹر بنے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 2005ء میں وہ جب یو بی ایل کے کوچ بنے تو اس ٹیم میں اظہر محمود ،رضوان احمد،شان مسعوداور حافظ خالد جیسے کھلاڑی شامل تھے،2011ء میں یو بی ایل نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں کوالیفائی کیا،اس وقت ٹیم میں وہاب ریاض ،رومان رئیس ،عابد علی تھے اور کاشف بھٹی جیسے کھلاڑی موجود تھے جب کہ اس ٹیم کے کپتان شبیر احمد تھے،2011ء سے 2015ء تک ان کی کوچنگ میں یو بی ایل نے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی اور اس دوران2011ء میں کے آر ایل کی سٹار ٹیم کو ہرا کر ون ڈے کپ جیتے،اس وقت طاہر مغل مرحوم ٹیم کے کپتان تھے، 2015ء میں نئی مینجمنٹ کے آنے کے بعد انہیں یو بی ایل کی ٹیم کی کوچنگ سے ہٹا دیا گیا۔مسعود انور نے کہا کہ کیوں کہ ان کے پاس اب کوئی نوکری تو تھی نہیں اس لیے بیٹے کی خواہش پر ریسٹورنٹ بنایا،ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کرکٹ کھیلی اور کوچنگ ہی کی ہے، 40سال یہی کرتے گزر گئے ہیں، عمران خان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ پرفارمر کو ہمیشہ موقع دیتے ہیں، امید ہے کہ وہ میری خدمات سے بھی فائدہ اٹھانے کے احکامات جاری کریں گے۔یاد رہے کہ مسعود انوار نے دسمبر1990ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف لاہور کے مقام پر اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا ،اس وقت ویسٹ انڈین ٹیم میں گورڈن گرینج،ڈیسمنڈ ہینز،رچی رچرڈسن اور برائن لارا جیسے کھلاڑی شامل تھے جب کہ پاکستانی ٹیم میں کپتان عمران خان سمیت وسیم اکرم اور عبدالقادر جیسے کھلاڑی شامل تھے۔انہوں نے1983ء سے 1999ء کے دوران 128فرسٹ کلاس میچز میں21.71کی اوسط سے 587وکٹیں بھی حاصل کیں جس میں 38مرتبہ اننگز میں5وکٹیں اور9مرتبہ میچ میں 10یا اس سے زیادہ وکٹوں کی کارکردگی بھی شامل تھی۔