March 4, 2021

News PK

Latest Updates

کشمیر پریمیئر لیگ کا پلیئر ڈرافٹ یتیم خانے میں کروایا جائیگا … ڈرافٹ 10 فروری کو کشمیر یتیم ریلیف ٹرسٹ میں ہوگا، ٹورنامنٹ یکم اپریل سے 10 اپریل تک میرپور اور مظفرآباد میں … مزید

لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 9 فروری 2021ء ) کشمیر پریمیر لیگ (کے پی ایل) کا پہلا پلیئر ڈرافٹ 10 فروری کو آزاد جموں و کشمیر کے جری کس میں واقع کشمیر یتیم ریلیف ٹرسٹ (کے او آر ٹی) نامی ایک یتیم خانے میں ہوگا۔ کے پی ایل کے صدر عارف ملک نے بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے مارچ کے اواخر میں لیگ کو پہلے ہی این او سی جاری کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پلیئر ڈرافٹ کو کشمیر یتیم ریلیف ٹرسٹ کے یتیم بچوں کیساتھ رکھنے کا سوچ رہے ہیں ،لیگ کا بنیادی مقصد کشمیر کاز کو فروغ دینا ہے لہذا ہماری کوشش ہوگی کہ اسے کشمیری عوام کے قریب سے قریب لے جائیں۔ ڈرافٹ کے انعقاد کیلئے یتیم خانے سے بہتر کوئی اور جگہ نہیں ہے کیونکہ انہیں واقعتا فوقتا ہماری مدد کی ضرورت ہے۔ عارف نے کہا کہ یقینی طور پر یتیم بچوں کو اس کھیل کا حصہ بنانے میں فخر محسوس کریں گے۔

(جاری ہے)

ملک بھر سے 150 سے زیادہ کھلاڑی اس لیگ کے لیے دستیاب ہوں گے جن میں ڈومیسٹک سرکٹ کے کچھ بڑے نام بھی شامل ہیں ۔ تمام معروف کھلاڑی جو پی ایس ایل 6 کا حصہ ہیں، ڈرافٹ کے لئے دستیاب ہوں گے۔

کے پی ایل میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی شرکت کے بارے میں پوچھے جانے پر عارف نے کہا کہ ہم نے کے پی ایل کے پہلے ایڈیشن میں کسی بھی غیر ملکی کرکٹر کو مدعو نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اگلے سال ہونیوالے دوسرے ایڈیشن میں غیر ملکی کھلاڑیوں کو شامل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہمیں غیر ملکی کھلاڑیوں کی طرف سے بہت حوصلہ افزا جواب مل رہا تھا لیکن ہم نے اگلے سال تک اس معاملے کو موخر کردیا ہے۔ کے پی ایل کے صدر نے امید ظاہر کی کہ وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر حکومت بھی کے پی ایل کو اپنی مکمل حمایت دکھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ
ہم امید کرتے ہیں کہ لیگ شروع ہی سے کامیاب ثابت ہوگی، آزاد کشمیر کی حکومت بھی لیگ میں مدد فراہم کرنے کے لئے موجود ہوگی، کے پی ایل کا کوئی سیاسی مقصد نہیں ہے، ہم چاہتے ہیں کہ کرکٹ کو اس خطے میں مقبول بنائیں اور مستقبل میں ہونیوالے قومی اور بین الاقوامی مقابلوں کے لیے حقیقی ٹیلنٹ کو تلاش کریں۔
عارف نے یہ بھی کہا کہ وہ مستقبل میں کے پی ایل کو انگلینڈ لے جانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امکانات موجود ہیں کہ ہم کے پی ایل کے سیمی فائنل اور فائنل کو برطانیہ لے جائیں جہاں کشمیری وہاں موجود تمام دیگر برادریوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہیں۔ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ لیگ کو ملک سے باہر لے جانے کے خیال پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔