March 5, 2021

News PK

Latest Updates

باجوڑ میں جرگہ: خواتین پر ریڈیو چینل فون کرنے پرپابندی

باجوڑ کے علاقے وارا ماموند میں ایک جرگے نے خواتین پر ایف ایم ریڈیو پر فون کالز کرنے اور ’صدائے امن مرکز‘ پر جاکر زچگی کے عوض وظیفہ وصول کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ جرگے نے اس فیصلے کی خلاف ورزی پر 10 ہزار روپے جرمانے کا بھی اعلان کیا۔

ڈپٹی کمشنر فیاض شیرپاؤ نے جرگے کے اس فیصلے کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قبائلی رہنماؤں کو اگر کوئی اعتراضات تھے تو انہیں انتظامیہ سے بات کرنی چاہئے تھی نہ کہ خواتین پر اپنے طور پر پابندی عائد کردیتے، جس کا انہیں کوئی حق نہیں۔

فیاض شیرپاؤ نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے جرگہ عمائدین کے ساتھ ایک اجلاس رکھا ہے جس میں انہیں فیصلہ واپس لینے پر رضامند کیا جائے گا۔ تاہم ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ اگر جرگہ عمائدین نے انظامیہ کی بات نہ مانی تو پھر ان کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔

خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان اجمل خان وزیر نے سماء ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باجوڑ اب صوبے کا حصہ ہے اور ضم ہوجانے والے اس ضلع میں صوبائی قوانین لاگو ہوتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اپنے مسائل بیان کرنے کیلئے اب مقامی افراد پر مشتمل کمیٹیاں بھی موجود ہیں۔

جرگے کے فیصلے

جرگے میں ایک قتل کے حوالے سے بھی فیصلہ کیا گیا اور اس موقع پر جرگہ عمائدین نے اپنی نئی پالیسیوں کے حوالے سے ایک تحریری بیان بھی جاری کیا۔

جرگے کے مطابق اگر کوئی شخص کسی کا قتل عمد کرتا ہے تو مقتول کے ورثاء کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ قاتل کو موت کے گھاٹ اتار کر اپنا بدلہ لے لیں۔ اگر ورثاء بدلے میں جان لینا نہیں چاہتے تو پھر مقتول کے بھائی یا والدین کوئی اور سزا معتین کرنے کے بھی مجاز ہوں گے اور قاتل و مقتول کے اہلخانہ اس حوالے سے ایک معاہدے پر دستخط کریں گے۔

تاہم جرگے نے واضح کیا کہ اگر کوئی شخص حادثاتی طور پر مارا گیا یا کسی جھگڑے کے دوران کوئی بے گناہ شخص قتل ہوگیا تو پھر اس صورت میں مقتول اور مارنے والے کے اہلخانہ کے درمیان کوئی دشمنی روا نہیں رکھی جاسکے گی۔ اس ضمن میں ہرجانے کا تعین علاقے کے بزرگ کریں گے۔

اسی طرح اگر کوئی حادثاتی طور پر زخمی ہوجاتا ہے تو اس صورت میں جن کی فائرنگ سے ایسا ہوا وہ علاج و معالجے کے اخراجات برداشت کریں گے۔

جرگے کے فیصلے کے مطابق اگر کسی شخص کا رات کے وقت قتل ہوجاتا ہے تو اس صورت میں بغیر کسی پختہ ثبوت کے کسی پر الزام عائد نہیں کیا جاسکے گا۔

جرگے نے فیصلہ دیا کہ اگر کوئی عورت کسی غیر مرد کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں پائی گئی تو دونوں کو ہی قتل کردیا جائے گا۔

کوئی غیر شادی شدہ خاتون اگر کسی ایسے مرد کے ساتھ دیکھی گئی جو اس کا رشتہ دار نہ ہو تو اس صورت میں لڑکی کے والدین کو اختیار ہوگا کہ وہ اس شخص کو اپنا دشمن قرار دے دیں یا پھر اسے معاف کردیں، تاہم ایسا مرد علاقہ بدر کردیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں