March 5, 2021

News PK

Latest Updates

کار اسکریپنگ پالیسی سے گاڑیاں سستی کیسے ہوں گی

بھارت نے نئے سال کے بجٹ کے ساتھ پرانی کاروں کی رضاکارانہ اسکریپنگ کی پالیسی بھی متعارف کروا دی ہے اور حکومت کا خیال ہے کہ اس پالیسی سے ملک کا امپورٹ بل کم اور گاڑیاں سستی ہوجائیں گی۔

بھارت کی وزیرخزانہ نرملا سیتھارامن نے بجٹ خطاب میں پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس سے فضائی آلودگی قابو کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

کار اسکریپنگ پالیسی کے مطابق تمام پرائیویٹ کاریں 20 سال جبکہ کمرشل اور حکومت ملکیتی گاڑیاں 15 سال بعد فٹنس کے مرحلے سے گزریں گی اور اس کے بعد ان گاڑیوں کی پہلے رجسٹریشن ختم کرکے اسکریپ کی جائیں گی۔ اس پالیسی کا نفاذ یکم اپریل 2020 سے ہوگا۔

بھارت کی وزارت روڈ ٹرانسپورٹ اینڈ ہائی ویز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسکریپنگ سے متعلق نوٹی فکشن جلد جاری کیا جائے گا۔

اس پالیسی کے فوائد کیا ہوں گے

بھارت کی وزیر خزانہ نے اپنی تقریر کے دوران اس کے چند اہم نکات بتائے ہیں۔ ان کے مطابق پرانی گاڑیاں اسکریپ کرنے سے ملک آٹو انڈسٹری کا حب بن جائے گا۔ نئی گاڑیوں کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوگا۔ نئے پلانٹ لگیں گے اور تمام پرزے بھی مقامی سطح پر تیار ہوں گے۔

پرانی گاڑیاں زیادہ فیول کھانے اور زیادہ دھواں چھوڑنے کیلئے مشہور ہیں۔ اس پالیسی کے نفاذ کے بعد فیول کی بچت ہوگی اور ملک کا امپورٹ کا بل کم ہوگا یعنی فیول کی درآمد کم ہوگی اور اس کے نتیجے میں ماحولیاتی آلودگی بھی کم ہوگی۔

اسکریپنگ کے بعد گاڑی کے بعض پارٹس ری سائیکل ہوکر دوبارہ استعمال ہوں گے جس کے نتیجے میں قیمتیں بھی کم ہونے کے امکانات ہیں۔ اسی طرح مقامی طور پر تیار ہونے سے قیمت میں ویسے ہی کافی فرق پڑجاتا ہے۔

الیکٹرک کاروں کی راہ ہموار کرنا

بھارتی حکام کا خیال ہے کہ اس پالیسی کی مدد سے الیکٹرک کاروں کیلئے بھی مارکیٹ میں سازگار ماحول مل جائے گا اور جب لوگ نئی گاڑیوں کی خریداری کی جانب جائیں گے تو ان کی کوشش ہوگی کہ الیکٹرک گاڑی ہی خریدیں۔ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ سے نہ صرف پٹرول اور گیس پر انحصار کم ہوجائے گا بلکہ بھاری زرمبادلہ کی بچت ہوگی اور ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔

متعلقہ خبریں