23

قتل ، جنسی زیادتی کے واقعات ،امریکی فوجی اڈہ جرائم کا گڑھ بن گیا … قتل اور جنسی جرائم سمیت دیگر واقعات میں فوج کے افسران ملوث ‘افغانستان بھیج دو مگر یہاں تعینات نہ کرو’ … مزید

ٹیکساس (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 09 دسمبر 2020ء) امریکی ریاست ٹیکساس میں قائم امریکا کا سب سے بڑا ‘فورٹ ہُڈ’ فوجی اڈہ جرائم کا گڑھ قرار، امریکی فوجی فورٹ ہُڈ جانے سے گھبرانے لگے ۔ بین الاقوامی میڈیا ذرائع کے مطابق ٹیکساس میں واقع فورٹ ہُڈ فوجی اڈہ جنسی جرائم کا مرکز بن چکا ہے ۔ فوجی اڈے میں قتل اور جنسی جرائم سمیت دیگر واقعات میں ملوث میجر جنرل سمیت 14 اہلکاروں کو معطل یا نوکری ہی سے نکالا جاچکا ہے۔ فوجی اڈے میں اتنے بڑے پیمانے پر جرائم کا انکشاف رواں برس اپریل کے مہینے میں ہوا جب 20 سالہ ونیسا گلین یہاں سے لاپتا ہوئی تھیں اور جون میں ان کی باقیات ملی تھیں۔ ونیسا گلین کو ساتھی فوجی اہلکار ارون روبنسن نے سر پر ہتھوڑے کے وار سے قتل کرکے ان کی لاش کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے جنگل میں دفنا دیا تھا تاہم تحقیقات شروع ہونے پر ارون روبنسن نے خود کشی کرلی تھی۔

(جاری ہے)

لاپتا ہونے سے قبل ونیسا گلین نے خاندان والوں کو ساتھی اہلکار کی جانب سے ہراساں کرنے کے بارے میں بتایا تھا۔ یہی نہیں اہلکار مورٹا اور فرنانڈس بھی غائب ہوگئے تھے جن کی پراسرار ہلاکت کو بعد میں قدرتی موت کہہ کرپردہ ڈال دیا گیا تھا۔ ونیسا گلین کی موت امریکی فوج میں جنسی تشدد پر بے حسی کے رویے کے حوالے سے ’می ٹو‘ مہم کا سنگ میل ثابت ہوئی جس پر شدید عوامی ردعمل دیکھنے میں آیا تھا۔ ونیسا گلین کی موت کے بعد فوج نے تحقیقات کیلئے 5 رکنی کمیٹی قائم کی اور اب تک 2500 اہلکاروں کے انٹرویوز کی بنیاد پرکی گئی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ فوجی اڈے کے اعلیٰ ترین افسروں نے ہی آنکھیں بند کررکھی تھیں اورجرائم کے لیے ایسا ماحول بنایا تھا کہ ماتحتوں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی تھی۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق زیادتی اور دیگر واقعات کا شکار اہلکار اپنے ساتھ پیش آئے واقعات کا بتاتے ہوئے کانپتے تھے کیونکہ انہیں ڈرتھا کہ کہیں اس سے زیادہ عذاب نہ جھیلنا پڑے اور ترقی کے امکانات ہی ختم نہ ہوجائیں جبکہ بعض متاثرین کو تو یہ دھمکیاں دی گئی تھیں کہ اگرزبان کھولی تو گھروالوں کی بھی خیر نہیں۔ غفلت برتنے پر میجر جنرل جیفری براڈ واٹر کومعطل کردیا گیا ہے جبکہ 13 دیگر اہلکار بھی معطل یا نوکری سے نکالے گئے ہیں تاہم ان کےخلاف مجرمانہ کارروائی کی اطلاعات نہیں ملی ہیں ۔ امریکی فوج کے اس اڈے میں کام کرنے والے فوجی اہلکاروں کا کہنا تھا کہ افسران سچ چھپانے کے لیے دباؤ ڈالتے تھے ۔ امریکی فوجی اڈے پر انٹرویو کے دوران اہلکاروں کے انکشافات کے بعد تحقیقاتی کمیٹی نے امریکی کانگریس سے معاملے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور کانگریس کو ایسا قانون لانے کی تجویز دی ہے جس میں افسروں کی ترقی و تبادلے کے لیے مںظم طریقہ کار دیا گا ہو، تاکہ وہ عہدے یا ترقی نہ ملنے کے خوف سے دباؤ کا شکار نہ رہیں ۔

کیٹاگری میں : News

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں