23

والدہ کی وفات کے باوجود نوازشریف کی وطن واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا … پرویز مشرف کے ساتھ ان کا این آر او ہوا تھا ، والد کی وفات پر سابق صدر نے سفیر بھیج کر یقین دہانی … مزید

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 نومبر2020ء) سابق وزیراعظم نوازشریف کی وطن واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جب ان کے والد کا انتقال ہوا تو اس وقت جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے پاکستان کا سفیر نواز شریف کے پاس بھیجا اور پیغام دیا کہ وہ 3 روز کے لیے پاکستان آجائیں لیکن مسلم لیگ ن کے قائد نے تب بھی انکار کردیا ، ان خیالات کا اظہار تجزیہ کار ہارون رشید نے کیا۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف نے یقینی دہانی کرائی تھی کہ نوزشریف کے خلاف کسی بھی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی، کیوں کہ اس وقت تو این آر او بھی ہوچکا تھا تو کارروائی کیا ہونی تھی، لیکن اس کے باوجود انہوں نے انکار کردیا اور کہا کہ تین دن نہیں بلکہ زیادہ دن دیے جائیں، جس پر مشرف نے انہیں 7دن دینے کی پیش کس کی،جس پر نوازشریف نے کہا کہ چالیس دن دیے جائیں، اور پاکستان آنے سے انکار کردیا۔

(جاری ہے)

ہارون رشید نے کہا کہ مریم نواز کہتی ہیں انہوں نے اپنے والد سے کہا ہے کہ وہ پاکستان نہ آئیں کہ یہ حکومت بہت ظالم ہے، جب کہ حکومت تو کچھ کرہی نہیں سکتی کیوں کہ یہ تو عدالت کا حکم ہے، اسلام ٓباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہہ دیا ہے کہ قانونی طور پر بھی کوئی حق نہیں مل سکتا جب تک وہ سرینڈر نہیں کرتے، اس سے حکومت کا تو کوئی تعلق ہی نہیں ہے، حکومت ایسی صورتحال میں عدالتی حکم کے خلاف کیسے جاسکتی ہے۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر لندن میں انتقال کر گئی ہیں ، ان کی عمر 90 سال تھی اور وہ طویل عرصے علیل تھیں ،
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے بیٹے حسین نواز نے تصدیق کی تھی کہ ان کی دادی انتقال کر گئی ہیں، صبح وہ نماز کے لیے اُٹھیں تو ان کی طبیعت خراب ہوئی، جس پر انہیں ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ اسی بیماری کے باعث انتقال کر گئیں ۔ بتایا گیا تھا کہ بیگم شمیم اختر کی نماز جنازہ لندن میں ادا کی جائے گی جس کے بعد ان کی میت کو لاہور لایا جائے گا، لاہور میں دوسری مرتبہ نماز جنازہ پڑھنے کے بعد ان کو جاتی عمرہ میں ان کے شوہر میاں محمد شریف کے پہلو میں سپرد خاک کیا جائے گا ۔ اس حوالے سے سینیئر رہنما پاکستان مسلم لیگ نواز عطاء اللہ تارڑ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بھی تصدیق کی ہے۔

کیٹاگری میں : News

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں