30

بہتری کے اشارے، مگرمعیشت جمود کا بھی شکار ہو سکتی ہے

ہر روز بڑھتی ہوئی مہنگائی غریبوں کے مصائب میں تیزی سے اضافہ کر رہی ہے فوٹو : فائل

ہر روز بڑھتی ہوئی مہنگائی غریبوں کے مصائب میں تیزی سے اضافہ کر رہی ہے
فوٹو : فائل

 لاہور:  رواں مالی سال کے دوران پاکستانی معیشت کو مشکل دور سے گزرنا پڑا جب خام قومی پیداوار ( جی ڈی پی ) صفر سے بھی نیچے جاکر منفی ہوگئی، اس کے ساتھ ساتھ افراطِ زر کی شرح بھی دہرے ہندسوں میں رہی۔کئی مبصرین کا خیال ہے کہ اب معاشی بحالی کے اشارے ملنا شروع ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب سیاسی محاذ پر پی ڈی ایم کے تحت ہلچل مچی ہوئی ہے۔ اقتصادی محاذ پر حکومت کو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری جیسے گمبھیر مسائل کا سامنا ہے۔ اس تمام صورتحال میں حکومت آئی ایم ایف کے قرضہ پروگرام کی بحالی کے لیے کوشاں ہے، جبکہ اس ادارے کی جانب سے کچھ ادارہ جاتی اصلاحات کے ساتھ بجلی اور گیس کے نرخ بڑھانے کی شرط بھی دہرائی جاسکتی ہے۔

حکومت آئی ایم ایف کی کچھ شرائط کی پہلے ہی تکمیل کرچکی ہے۔ مالی سال 2020-21 کے ابتدائی تین ماہ کے دوران بڑے پیمانے کی پیداوار ( لارج اسکیل مینوفیکچرنگ ) میں 4.8 فیصد اضافہ ہوا۔ مشکل اقتصادی حالات میں بزنس پیدا کرنے کے لیے مالیاتی ادارے بڑے کاروباروں کو آسان شرائط پر قرض فراہم کررہے ہیں۔

پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوگیا جسے معیشت کے لیے مثبت اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ گذشتہ ماہ بیرونی سرمایہ کاری اور روپے کی قدر بھی مستحکم رہی۔ کورونا کی دوسری لہر شدت پکڑ رہی ہے اور حکومت نے کاروباری اوقات میں کمی کردی ہے۔

تاہم اب حکومت کے لیے سخت پابندیوں کا نفاذ آسان نہیں رہا کیوں کہ کاروباری طبقوں نے شور مچانا شروع کردیا ہے۔ ہر روز بڑھتی ہوئی مہنگائی غریبوں کے مصائب میں تیزی سے اضافہ کررہی ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہتی ہے تو معیشت جمود کا شکار ہوجائے گی۔ مختصراً یہ کہ لارج اسکیل انڈسٹریل سیکٹر مالیاتی پالیسی میں نرمی کی وجہ سے کسی حد تک بحال ہوا ہے، مگر زرعی شعبہ بحران سے دوچار ہے جس کا اثر بتدریج صنعتی شعبے پر پڑے گا۔ صنعتی شعبے کی پیداوار برقرار رکھنے میں زرعی شعبے کی پیداوار بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔

کیٹاگری میں : News

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں