خبریں

تازہ ترین

مفتی عبداللہ پر حملے کے مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے متحدہ عرب امارات سے رابطہ کرنے کا فیصلہ … محکمہ انسداد دہشتگردی نے دو دن قبل 2 ملزموں کو پکڑا تھا جنہوں نے انکشاف کیا … مزید

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – 18 نومبر2020ء ) مفتی عبداللہ پر حملے کے مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے متحدہ عرب امارات سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے مفتی عبداللہ پر حملے کی تحقیقات کو وسیع کردیا ہے ۔ اس حوالے سے سی ٹی ڈی نے مرکزی ملزم زاہد شوٹر کو گرفتار کرنے کے لیے حکومتی سطح پر امارات سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے ایک ڈوزیئر بھی تیار کیا جا چکا ہے جو سندھ حکومت کو دیا جائے گا۔ ملزم کی گرفتاری کے لیے اس کیس میں ایف آئی کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ کانٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)نے قاتلانہ حملے میں ملوث مرکزی مفرور ملزم اور اس کے ساتھی کو گرفتار کیا تھا۔سی ٹی ڈی کے مطابق کراچی میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کا بین الاقوامی نیٹ ورک بے نقاب ہوگیا ۔

(جاری ہے)

اس ضمن میں ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عمر شاہد حامد نے پیرکی صبح پریس کانفرنس میں تفصیلات سے میڈیا کو آگاہ کیا۔

ایس ایس پی سی ٹی ڈی عارف عزیز اور انچارج سی ٹی ڈی سیل راجہ عمر خطاب بھی ان کے ہمراہ تھے۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عمرشاہ نے بتایاکہ مرکزی ملزم کا نام حارث عرف فرحان عرف لنگڑا اور اس کے ساتھی کا نام ابوسفیان ہے،جسے محکمہ انسداد دہشت گردی نے کامیاب کارروائی کے دوران گرفتار کیاہے تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ملزماں کو کب اور کہاں سے گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ حارث عرف فرحان عرف لنگڑا اور اس ساتھی کے قبضے سے موٹرسائیکل،گولیاں اور پستول برآمد ہواہے۔انہوں نے بتایاکہ ملزم کی گرفتاری سے بیرون ملک موجود ساتھی بھی بے نقاب ہوگئے ہیں، ملزمان کو شہر میں فرقہ واریت کا ٹاسک دیا گیا تھا، ملزمان کو مذہبی شخصیات کو ٹارگٹ کرنے کے لیے حوالہ ہنڈی سے رقم منتقل کی گئی تھی۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایاکہ ملزمان لیاری گینگ وار سے تعلق رکھتے ہیں،حملے آور گروپ کا تعلق متحدہ عرب امارات میں موجود لیاری گینگ وار کے زاہد شوٹر گروپ سے ہے۔ زاہد شوٹر بھارتی ایجنسی را کے لیے کام کرتاہے ۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عمر شاہد حامد کے مطابق مفتی عبداللہ کو سیکورٹی نہ ہونے کی وجہ سے آسان ہدف بناکر ٹارگٹ کیا گیا اور مولانا عادل پر حملے کے بعد یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ایک فرقے کے علما ٹارگٹ پر ہیں۔انہوں نے بتایاکہ اس گروپ کے تمام لڑکے پیشہ ور قاتل ہیں، گروپ میں گولیمار اور لیاری کے جرائم پیشہ افراد شامل کیے گئے ہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را اس نیٹ ورک کو آپریٹ کرتی ہے، میڈیا پر 10 لاکھ روپے کے تنازعہ پر قتل کی خبریں چلوائی گئیں جبکہ رقم کا کوئی تنازعہ نہیں تھا، یہ خبر بے بنیاد تھی۔اس موقع پرراجہ عمر خطاب نے بتایاکہ سی ٹی ڈی نے واقعے میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جن میں حارث فرحان لنگڑا اور ساتھی سفیان شامل ہے۔دہشت گردوں کو رقم ترسیل کے لیے فوڈ پانڈا اور بائیکیا موٹر سائیکل سروس کے نام استعمال کیے گئے۔ سی ٹی ڈی نے بائیک سروس مہیا کرنے والی کمپنیوں سے بھی ڈیٹا طلب کر لیا ہے ۔