خبریں

تازہ ترین

اسلام آباد ہائیکورٹ نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں 300 سے زائد افراد کے اجتماع اور سیاسی جلسے جلوسوں پر مکمل پابندی عائد کر دی

اسلام آباد۔18نومبر  (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – اے پی پی۔ 18نومبر2020ء) :اسلام آباد ہائیکورٹ نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں 300 یا اس سے زائد افراد کے اجتماع اور سیاسی جلسے جلوسوں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے کرونا وائرس کے پھیلائوسے متعلق تحریری درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے قومی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کر دی۔ عدالت عالیہ نے حکم دیا ہے کہ کرونا وائرس کی دوسری لہر کے پھیلائوکے خدشے کے پیش نظر نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر (این سی او سی ) کی طرف سے متعارف کروائے گئے سٹینڈرڈز آف پروسیجرز (ایس او پیز) پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا۔ عدالت عالیہ نےکوروناکے پھیلائو کے پیش نظر این سی او سی کے احکامات کو اپنے فیصلے کا حصہ بنایا ہے۔

(جاری ہے)

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 300 سے زیادہ افراد کے اجتماع بشمول سیاسی جلسے جلوس پر مکمل طورپر پابندی ہوگی۔

عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ جلسے جلوسوں اور دیگر اجتماعات کے منتظمین کورونا وباءکے پھیلائو یا اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی قسم کے جانی و مالی نقصان کے ذمہ دار ٹھہرائے جائیں گے اور عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی پر قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ عدالت عالیہ کا کہنا ہے کہ  کورونا وبا کے پھیلائو  کو روکنے کے لئے این سی او سی کی طرف سے نافذ کردہ ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد انتظامیہ کی ذمہ داری ہوگی۔ عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ این سی او سی کے فیصلے کے مطابق مقامی انتظامیہ ماسک پہننے کی پابندی کو یقینی بنائے گی۔قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) نے 16 نومبر کو ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ 300 سے زائد افراد کے اجتماع پر فوری طورپر پابندی عائد کی جائے ۔این سی سی کے فیصلے کے مطابق کسی بھی اجتماع یا جلسے جلوس کے دوران ایس او پیز کی خلاف ورزی کی صورت میں ہونے والی اموات یا کورونا وائرس کے پھیلائوکے ذمہ دار ان جلسے جلوسوں کے منتظمین ہوں گے۔ این سی سی نے 20 نومبر 2020ءسے شادی کی غرض سے گھریلو اجتماع پر مکمل پابندی جبکہ کھلی جگہوں پر ہونے والے شادی اجتماع زیادہ سے زیادہ 300 مہمانوں تک محدود رکھنے کی سفارش کی تھی۔ قومی رابطہ کمیٹی نے ریسٹورنٹس کے حوالے سے ہال کے اندر کھانے کی اجازت دینے کا مشروط فیصلہ کیا جس میں ایس او پیز پر پابندی کو لازم و ملزوم ٹھہرایا گیا۔ ان فیصلوں اور ہدایات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے صوبائی چیف سیکرٹریز اور چیف کمشنر اسلام آباد کو ذمہ داری سونپی ہے۔ تعلیمی اداروں کے حوالے سے قومی رابطہ کمیٹی نے وفاقی اور صوبائی وزراءتعلیم کو موسم سرما کی تعطیلات کے حوالے سے مکمل بااختیار کیا ہے۔ وفاقی اور صوبائی وزراءتعلیم باہمی مشاورت سے سکولوں میں موسم سرما کی تعطیلات کے حوالے سے 23 نومبر تک حتمی فیصلہ کریں گے۔ این سی سی نے ماسک پہننے اور سماجی فاصلوں کے بارے میں سابق فیصلوں پر فوری عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے صوبائی چیف سیکرٹریز اور چیف کمشنر اسلام آباد کو پابند بنایا تھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے این سی سی کے تمام فیصلوں کی مکمل توثیق کرتے ہوئے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔