خبریں

تازہ ترین

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی نیوکلئیر سائٹ پر حملے کے لیے تجاویز طلب کیں … اس کاروائی سے جنگ چھڑ سکتی ہے،ایران کے ساتھ وسیع تنازع کو جنم دے سکتی ہے، سینئر مشیروں کی مخالفت پر … مزید

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 17 نومبر 2020ء) : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پچھلے ہفتے ایران کی نیوکلئیر سائٹ پر حملے کے لیے تجاویز طلب کیں۔ٹرمپ نے تجاویز قومی سلامتی کے سینئر مشیروں کے ساتھ میٹنگ میں مانگی ۔میٹنگ میں نائب امریکی صدر، وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور آرمی چیف شریک تھے۔ ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ جوہری ہتھیاروں کو چھپانے کی وجہ سے سزا کے طور پر ایران پر حملہ کرنا چاہتے تھے،تاہم اعلیٰ مشیروں نے انہیں متنبہ کیا کہ اس صورتحال میں جنگ چھڑ سکتی ہے۔مشیروں نے ٹرمپ کو بتایا کہ اس طرح کی کاروائی ایران کے ساتھ وسیع تنازع کو جنم دے سکتی ہے،اس کے باوجود بھی ڈونلڈ ٹرمپ تہران کو سزا دینا چاہتے ہیں۔ سینئر مشیروں کی مخالفت پر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

(جاری ہے)

معاونین نے ایران پر حملہ کرنے سے متلعق ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کی حوصلہ شکنی کی۔جس میں سکریٹری برائے خارجہ مائیک پومپیو اور قائم مقام سیکریٹری کرسٹوفر سی ملر بھی شامل ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔قبل ازیں ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ امریکی حکومت کی تہران پر زیادہ سے زیادہ دبا کی پالیسی ختم ہونے والی ہے، تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق روحانی نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا ، یورپ اور دنیا کے دوسرے مقامات سے آنے والے تمام اشارے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ دبا ئوبیکار ہے اور یہ دبائو اب ختم ہونے والا ہے۔ جوبائیڈن کے امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد ایرانی صدر حسن روحانی روزانہ کی بنیاد پر امریکی پالیسی میں تبدیلی کے امکانات پر بات کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے حوالے سے سخت موقف پر مبنی پالیسی ختم ہونے والی ہے۔موجودہ اور سابق امریکی سرکاری عہدے داروں کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے متعلق قوانین کے تحت پابندیوں کو دوبارہ عائد کرنے سے انہیں اٹھانا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔