خبریں

تازہ ترین

گلگت بلتستان انتخابات، تحریک انصاف اور آزاد امیدواروں میں کانٹے دار مقابلہ جاری … پی ٹی آئی کو 6، آزاد امیدوار5 ، پیپلزپارٹی 3، مسلم لیگ ن 1، جے یوآئی ف، مجلس وحدت المسلمین … مزید

گلگت (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 15 نومبر2020ء) گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات میں غیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج آنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے، اب تک موصول ہونے والے غیرسرکاری نتائج میں تحریک انصاف نے6 نشستیں جیت کر انتخابی میدان مار لیا ہے، انتخابات میں آزاد امیدوار 5 ، پیپلزپارٹی 3، اور مسلم لیگ ن فی الحال صرف ایک نشست جیتنے میں کامیاب ہوئی، مزید نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان کے الیکشن میں ایک بجے تک موصول ہونے والے نتائج کے تحت پاکستان میں حکمران جماعت تحریک انصاف نے کو 6 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی جبکہ 3 نشستوں پر آگے ہے، اسی طرح پیپلزپارٹی 3 نشستیں جیت گئی جبکہ مزید پر آگے جارہی ہے۔ آزاد امیدوارں نے 5 نشستیں جیت لی ہیں۔

(جاری ہے)

مسلم لیگ ن 1نشست، جے یوآئی ف، اور مجلس وحدت المسلمین نے بھی ایک ایک نشست حاصل کی۔

تاہم یہ نتائج حتمی نہیں ہیں۔ بہت سارے علاقوں میں سرد موسم اور برف باری ہوئی جس کے باعث ابھی تک گنتی کا سلسلہ جاری ہے۔ حتمی نتائج کا اعلان سرکاری طور پر کیا جائے گا۔ چیف الیکشن کمشنرگلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پورے گلگت بلتستان میں مثالی الیکشن ہوا ہے، انتخابات صاف شفاف اور غیرجانبدار ہوئے ہیں۔ جی بی کے عوام نے اپنی مرضی سے ووٹ کا استعمال کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چند جماعتوں کے سربراہان شکوک وشبہات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔غیرذمہ درانہ اور غیر ضروری بیانات سے گریز کیا جائے۔ان رہنماؤں سے اپیل کرتا ہوں کہ الزامات لگانے اور شکوک شبہات پیدا کرنے کی بجائے الیکشن کمیشن سے رجوع کریں۔ چیف الیکشن کمشنر راجہ شہبازخان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کا الیکن آزاد ،صاف اور شفاف تھا۔ گلگت کے کچھ علاقوں میں بارش اور برفباری ہوئی۔ انتخابی نتائج آنے میں کچھ وقت لگے گا۔ پولنگ ایجنٹس  کے سامنے تمام نتائج تیار ہوں گے۔ غیر ذمہ درانہ اور غیر ضروری بیانات سے گریز کیا جائے۔ ابھی تک کسی بھی حلقے کا حتمی نتیجہ ابھی تک موصول نہیں ہوا۔ دور دراز علاقوں کے انتخابی نتائج میں وقت لگے گا۔ انتخابی نتائج سے متعلق مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں دھاندلی کے ذریعے ہرانے کا پوراپلان کیا گیا، ہمارے امیدوار جن حلقوں میں جیت رہے تھے، وہاں پر پولنگ کا عمل ہی سست رکھا گیا۔ یہی پریکٹس الیکشن2018ء میں کی گئی تھی۔ جبکہ مسلم لیگ ن نے سب سے بڑے جلسے کیے۔ پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ گنتی کے وقت مبصرین کا نہ ہونا دھاندلی کے مترادف ہے۔ الیکشن کمیشن نوٹس لے۔ خواتین کی ووٹنگ پر دانستہ پابندیوں پر گہری تشویش ہے۔ خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنے کی کوششیں ناقابل قبول ہے۔ یہ واقعات انتخابات کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی جیت رہی ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام نے پی ٹی آئی پر اظہار اعتماد کیا، جبکہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کو مسترد کردیا ہے۔ واضح رہے آج گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے 24 میں سے 23 انتخابی حلقوں میں پولنگ کا عمل مکمل ہوگیا ہے، اب تمام حلقوں کے پولنگ اسٹیشنز میں ووٹوں کی گنتی اورنتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ گلگت بلتستان کے انتخابات میں حکمراں جماعت تحریک انصاف21، پیپلزپارٹی 23 اور مسلم لیگ ن کے21 امیدواروں سمیت الیکشن میں190آزاد امیدواروں نے بھی حصہ لیا، اسی طرح مسلم لیگ کے 14، جے یوآئی ف 11، اسلامی تحریک7 اور پی ایس پی کے4، ایم کیوایم 3، مجلس وحدت المسلمین 3 اور جماعت کے 2 امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا۔ الیکشن میں 7 لاکھ 45 ہزار361 رجسٹرڈووٹرزنے حق رائے دہی استعمال کیا۔ان میں 4 لاکھ سے زائد مرد ووٹرز اور 3 لاکھ 35 ہزار سے زائد خواتین ووٹرز نے ووٹ کاسٹ کیا۔ ضلع دیامر 4، ضلع گانچھے 3، ضلع غذر3، ضلع گلگت3،ضلع ہنزہ، اسکردو میں انتخابی حلقوں میں عوام میں انتخابی امیدواروں کو ووٹ کاسٹ کیے۔