خبریں

تازہ ترین

کشمور میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی 4 سالہ بچی کی حالت تشویش ناک … متاثرہ بچی علاج کیلئے کراچی منتقل، بچی پر جو مظالم ڈھائے گے شاید وہ ساری زندگی اس کے صدمے سے … مزید

کراچی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 13 نومبر 2020ء) کشمور میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی 4 سالہ بچی کی حالت تشویش ناک، متاثرہ بچی علاج کیلئے کراچی منتقل، بچی پر جو مظالم ڈھائے گے شاید وہ ساری زندگی اس کے صدمے سے باہر نہ نکل پائے، ڈاکٹرز کی جانب سے خدشے کا اظہار۔ تفصیلات کے مطابق سندھ کے شہر کشمور میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی 4 سالہ معصوم بچی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ متاثرہ بچی کی حالت تشویش ناک ہے جس کے بعد اسے علاج کیلئے کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔ بچی کی حالت کے حوالے سے ڈاکٹرز کا بتانا ہے کہ بچی شدید صدمے کی حالت میں ہے۔ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ بچی پر جس قسم کے مظالم ڈھائے گئے اس کے بعد خدشہ ہے کہ متاثرہ بچی شاید ساری زندگی اس صدمے سے باہر نہ نکل پائے۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ 2 روز کشمور میں نوکری کا جھانسہ دے کر ایک خاتون اور اس کی 4 سالہ بیٹی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا خوفناک واقعہ رپورٹ ہوا تھا۔

بتایا گیا کہ ملزمان خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اس کی 4 سالہ بیٹی کو کئی روز تک درندگی کا نشانہ بناتے رہے۔ بعد ازاں پولیس کے چھاپے میں ایک ملزم گرفتار کر لیا اور بچی کو تشویش ناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ بچی کو ظالم درندے ناصرف کئی روز تک زیادتی کا نشانہ بناتے رہے، بلکہ اس ننھی جان کو بدترین تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ پولیس واقعے میں ملوث 2 ملزمان کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئی، جبکہ دیگر 2 ملزمان اب بھی مفرور ہیں۔ کشمور پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کشمور میں 4 سالہ بچی کیساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کرنے والا ایک ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔ واقعے کی رپورٹ ملنے کے بعد پولیس کی جانب سے رفیق ملک نامی ملزم کو گزشتہ روز گرفتار کیا گیا تھا۔ جبکہ جمعہ کے روز ملزم رفیق کی نشاندہی پر بچی اور اس کی ماں سے زیادتی کے گھناونے جرم میں ملوث مرکزی ملزم کی گرفتاری کیلئے چھاپہ مارا گیا۔ پولیس ملزم رفیق کو مرکزی ملزم خیراللہ بگٹی کی گرفتاری کے لئے لیکر گئی تو مسلح افراد نے حملہ کر دیا۔ ملزم رفیق ملک کی نشاندھی پر روپوش ملزم خیراللہ بگٹی کے ٹھکانے پر گئے تو وہاں فائرنگ کر دی گئی۔ فائرنگ میں ملزم رفیق ملک اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ سے مارا گیا جبکہ خیر اللہ بگٹی کو گرفتار کرلیا گیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں رفیق اللہ شدید زخمی ہوئے جسے فوری ہسپتال لے جایا گیا، تاہم ملزم ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ گیا۔