خبریں

تازہ ترین

عبدالقادر بلوچ نے نون لیگ سے علیحدگی کی وجوہات بتادیں

سماء کے پروگرام 7 سے 8 میں بات چیت

مسلم لیگ نون کے سابق رہنماء ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عبدالقادر بلوچ نے نون لیگ سے علیحدگی کی بنیادی وجوہات بیان کردیں۔

عبدالقادر بلوچ نے سماء کے پروگرام 7 سے 8 میں گفتگو کرتے ہوئے گزشتہ دنوں اپنی ن لیگ سے علیحدگی اور پارٹی سے متنفر ہونے کے حوالے سے تین باتیں تفصیل سے بتائیں جن میں سے بقول سابق نون لیگی رہنما 2 وجوہات اہم ہونے کے باوجود ایسی تھیں جن پر بات چیت کرکے معاملہ رفع دفع کیا جاسکتا تھا تاہم تیسری اور سب سے بڑی وجہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے 25 اکتوبر کو کوئٹہ میں ہونے والے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دن نون لیگ کے ایک اور رہنماء نواب ثناء اللہ ان ہی کی فرمائش پر دبئی سے کوئٹہ جلسے میں شرکت کیلئے آئے تھے تاہم انہیں سردار اختر مینگل کے اعتراض پر اسٹیج پر نہیں بیٹھنے دیا گیا جو قبائلی سماج کے لحاظ سے بھی ناقابل برداشت تھا۔

نون لیگ سے اپنی ایک اور شکایت کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے بلوچستان نون لیگ کے ایک ورکرز کنونشن میں خطاب کیا لیکن پھر وہ خاص طور پر مدعو کی گئیں خواتین سے ملے بغیر چلی گئیں جس پر انہیں اور ان خواتین کو بہت برا لگا۔

عبدالقادر بلوچ نے نون لیگ سے الگ ہوجانے کی سب سے بڑی وجہ میاں محمد نواز شریف کے فوج کے خلاف بیان کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی فوج کا حصہ رہے ہیں، لہٰذا وہ اس ادارے کے خلاف کوئی بات نہیں سن سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ثناء اللہ زہری والے معاملے اور خواتین ورکرز سے مریم کا نہ ملنا یہ دو تو ایسے معاملات تھے جن پر نون لیگی قیادت سے بات ہوسکتی تھی اور ثناء اللہ زہری اور ان خواتین کو منا لینے کے بعد معاملہ شاید ختم بھی ہوجاتا لیکن نواز شریف کے فوج مخالف بیان پر ان کا سمجھوتہ کرنا ممکن نہیں لہٰذا وہ پارٹی سے الگ ہوگئے۔

ایک سوال کے جواب میں عبدالقادر بلوچ نے بتایا کہ انہوں نے ابھی پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پی پی پی بلوچستان کا ایک وفد صوبائی صدر علی مدد جتک کی قیادت میں ان سے ملنے آیا تھا اور انہیں پارٹی میں شمولیت کیلئے آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کی طرف سے باقائدہ دعوت دی تاہم فی الحال انہوں نے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

متعلقہ خبریں