خبریں

تازہ ترین

کیپٹن (ر) صفدر کیخلاف مزار قائد بیحرمتی کیس جھوٹاقرار

Safdar Naray Kh

سندھ پوليس نے حتمی چالان میں کيپٹن (ر) صفدر کيخلاف مزار قائد کی بے حرمتی کا کيس جھوٹا قرار دے ديا، پہلے جمع کرائے گئے چالان ميں مريم نواز کو بھی مفرور قرار ديا گيا تھا۔ وزير اطلاعات سندھ ناصر حسين شاہ کہتے ہيں مقدمے کا مدعی واقعے کے وقت تھا ہی نہيں تو کيس ختم ہونا تھا۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے میں شرکت کیلئے پیپلزپارٹی کی خصوصی دعوت پر مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کراچی آئے تھے۔

مریم اور صفدر نے کارکنوں کی بڑی تعدداد کے ہمراہ مزار قائد پر حاضری دی تھی، اس موقع پر بانی پاکستان کے مزار کے احاطے میں کیپٹن صفدر اور دیگر ن لیگی کارکنوں نے شدید سیاسی نعرے بازی کی تھی۔

ایک شہری کی جانب سے کیپٹن (ر) صفدر کیخلاف مزار قائد کی توہین کے الزام میں ایف آئی آر کے اندراج کی درخواست دائر کی گئی تھی جس پر پولیس نے رات گئے کیپٹن صفدر کو ہوٹل سے گرفتار کرلیا تھا۔

سندھ پولیس نے سٹی کورٹ ميں جمع کرائے گئے حتمی چالان ميں اپنے پہلے مؤقف سے یوٹرن لے لیا، جس میں کہا گیا ہے کہ جس نے مقدمے درج کرايا وہ خود تو مزار ميں موجود ہی نہيں تھا لہٰذا مقدمہ نہيں بنتا۔

پوليس نے استغاثہ کے اعتراضات دور کرتے ہوئے کيس کو جھوٹا قرار دے ديا۔

مقدمے سے املاک کو نقصان پہنچانے اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے الزامات بھی خارج کرديے گئے۔ صوبائی وزير اطلاعات ناصر شاہ نے بھی کيس جھوٹا ہونے کی تائيد کی۔

محکمہ پراسیکیوشن نے پولیس چالان سے اتفاق کرتے ہوئے چالان کو “بی کلاس” کردیا، استغاثہ نے اپنے اسکروٹنی نوٹ ميں لکھا کہ مزار قائد سیفٹی اینڈ مینٹی ننس آرڈیننس ہمارے دائرۂ اختیار میں نہیں آتا، اگر ایس ایچ او چاہے تو مزار قائد آرڈننس کيلئے براہ راست علیحدہ کیس داخل کرسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں