خبریں

تازہ ترین

امریکی انتخابات کا منظرنامہ

امریکی صدارتی دوڑ میں ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کی جیت کے امکانات بڑھ گئے، اگلے صدر وہی ہوںگے۔ فوٹو: فائل

امریکی صدارتی دوڑ میں ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کی جیت کے امکانات بڑھ گئے، اگلے صدر وہی ہوںگے۔ فوٹو: فائل

امریکی صدارتی دوڑ میں ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کی جیت کے امکانات بڑھ گئے، اگلے صدر وہی ہوںگے، جن ریاستوں میں ٹرمپ آگے تھے وہاں پر بھی بائیڈن لیڈ لے گئے ہیں، امریکی سیکرٹ سروس نے انھیں صدارتی سیکیورٹی دینے کے انتظامات کر لیے ہیں، تاہم مخالف امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ ہار ماننے سے مسلسل انکار کر رہے ہیں۔

ٹرمپ نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اگر قانونی ووٹوں کی گنتی کی جائے تو میں آسانی سے جیت جاتا ہوں، اگر غیر قانونی ووٹوں کی گنتی کی جائے تو یہ ہم سے الیکشن چوری کرنے کی کوشش ہو گی، تاہم ایک سابق صدارتی امیدوار مٹ رومنی نے جو ریپبلکن پارٹی کے ذمے دار سینیٹر ہیں۔

انھوں نے ٹرمپ کے بیانات اور الیکشن کو فراڈ کہنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ انتخابی بے ضابطگیوں پر احتجاج کرنے کا انھیں جمہوری حق حاصل ہے تاہم وہ بغیر شواہد کے جمہوری اداروں پر الزام لگا رہے ہیں، دوسری طرف سینیٹر پیٹ ٹومی نے بھی ٹرمپ کے الزامات کو پریشان کن قرار دیا ہے۔

امریکی نیوز چینلز نے بغیر ثبوت دھاندلی کے الزامات لگانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس کانفرنس کی براہ راست نشریات روک دیں۔ امریکی صدارتی انتخاب نے در حقیقت اس شعر کی گونج کو گلوبل رخ دیا ہے:

زمانے میں مرے شورِ جنوں نے

قیامت کا سا ہنگامہ اٹھایا

یہ حقیقت ہے کہ پوری دنیا کی نظریں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جوبائیڈن کی صدارتی انتخابی جنگ کے نتیجہ پر مرکوز ہیں، گھمسان کی جنگ جاری ہے، اور پہلی بار امریکی جمہوریت بھی سوالیہ بن گئی ہے، ووٹوں کی گنتی اور دیگر معاملات پر تنازعات نئی بات نہیں مگر ٹرمپ کی بات اور ہے چونکہ انھیں ایک بے پرواہ صدر کی عالمگیر شہرت حاصل ہے اس لیے موجودہ الیکشن سنسنی خیزی میں پچھلے سارے انتخابات کو پیچھے چھوڑ چکے۔

ٹرمپ کی دو درخواستیں ووٹوں کی گنتی روکنے پر تو مسترد ہو چکیں مگر ان کی ٹیم نے ایک اور درخواست دائر کی، جس پر انتخابی مشیروں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ابھی ’’ریس‘‘ ختم نہیں ہوئی جب کہ عالمی میڈیا میں جمہوری فالٹ لائنز، امریکی ووٹنگ کی گنتی میں تاخیر سے پیدا شدہ عوامی اور سیاسی بے چینی کے باعث عملی طور پر امریکی عوام انتظار کی سولی پر لٹک گئے ہیں، بادی النظر میں جو بائیڈن نے264 الیکٹرول ووٹ جب کہ صدر ٹرمپ نے 214 الیکٹرول ووٹ حاصل کیے ہیں، امریکی ریاست جارجیا میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا فیصلہ کیا گیا ہے کیوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور بائیڈن کے حاصل کردہ ووٹوں کے درمیان فرق انتہائی معمولی ہے۔

جارجیا کے قانون کے مطابق اگر امیدواروں کے حاصل کردہ ووٹوں میں فرق 0.5 فیصد سے کم ہو تو کوئی بھی فریق ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کر سکتا ہے، 8 ہزار ملٹری اہلکاروں کے ووٹ ڈاک کے ذریعے پہنچ رہے ہیں جنھیں گنا جائے گا، امریکی صدارتی انتخاب کے بعد جمعے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار پریس کانفرنس کی اور یہ پریس کانفرنس 17 منٹ تک جاری رہی۔

پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے ایک بار پھر ڈیموکریٹس پر دھاندلی کے الزامات لگائے جس پر امریکی نشریاتی اداروں نے ان کی براہ راست تقریر کاٹ دی۔ سوشل میڈیا کمپنیاں جعلی خبروں کی شناخت اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے متحرک ہیں۔ یہ امریکی الیکشن میں ایک غیرمعمولی تبدیلی ہے۔ امریکا میں ماضی میں بھی صدارتی الیکشن کے دوران شکوک وشبہات پیدا ہوتے رہے ہیں خصوصاً جارج بش اور الگور کے الیکشن میں بات بڑھ بھی سکتی تھی لیکن الگور نے جمہوریت پسندی کو اولیت دی اور کسی بھی قسم کے انتشار کی طرف جانے سے گریز کیا۔

یوں امریکا میں جمہوریت سربلند رہی۔ دنیا بھر میں یہ ایک مثال بن گئی کہ امریکا میں صدارتی الیکشن کے دوران کہیں کوئی بے ضابطگی ہو بھی جائے تو جمہوریت کے وسیع تر مفاد کی خاطر اسے نظرانداز کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے امریکا کا نظامِ حکومت پوری قوت اور جانفشانی کے ساتھ کام کرتا رہتا ہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ایسے اشارے ملنا شروع ہو گئے تھے کہ ہار جانے کی صورت میں ڈونلڈ ٹرمپ کچھ نہ کچھ کریں گے اور پھر آج تقریباً وہی کچھ ہو رہا ہے۔ اس سے دنیا بھر میں امریکا کا امیج متاثر ہوا ہے۔

امریکا کے معروف مبصر پال کرگمین نے انتخابی سسٹم اور امریکا میں معیشت اور کورونا کی پر خطر صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا موازنہ کسی ترقی پذیر ملک کی جمہوریتوں سے کریں تو یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ کیا امریکا ایک ناکام ریاست ہے، انھوں نے کہا کہ جو بائیڈن صدارتی جنگ میں جیت کی پوزیشن میں ہیں اور اگر وہ صدر بن بھی گئے تو انھیں سینیٹ کی شدید مزاحمت کا چیلنج بدستور درپیش ہو گا، انھیں کورونا وائرس اور ایک کمزور معیشت سے نمٹنا ہو گا، عوام کو ریلیف دینا ہو گا جب کہ کورونا کی مد میں عوام کی صحت اور علاج کے لیے ماہانہ دو ارب ڈالر خرچ کرنا ہوںگے، دیگر تجزیہ کاروں کے ساتھ کرگمین نے بھی یہ استدلال دیا ہے کہ جس طرح بارک اوباما کے لیے ریپبلکنز نے مشکلات کھڑی کیں، اسی طرح عوامی نمایندگی سے محروم سینیٹ میں مزاحمتی جنگ جاری رہے گی۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جوبائیڈن صدر بنیں گے تو انھیں انتہائی سنگین معاشی کسادبازاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کورونا نے امریکی معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی وجہ سے بھی ووٹر ناراض ہوا کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وباء کو سنجیدہ نہیں لیا۔ امریکا کے غالب ووٹرز کا خیال ہے کہ ٹرمپ اگر آغاز میں ہی اس وباء کو سنجیدہ لیتے اور سنجیدہ اقدامات کرتے تو امریکا کو اتنا نقصان نہ پہنچتا۔

بہرحال ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے طور پر کورونا وائرس سے نمٹنے کی کوششیں بھی کیں اور ان میں کسی حد تک بہتر کارکردگی بھی دکھائی، امریکی معیشت بھی بہتری کی طرف آئی لیکن یہ سب کچھ بہت تاخیر سے ہوا جس کا نقصان انھیں صدارتی الیکشن میں پہنچا ہے۔ اگر کورونا وباء نہ ہوتی تو شاید ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار بھی بھاری اکثریت سے فتح یاب ہو جاتے کیونکہ ان کے دورِ حکومت میں ’’امریکا فرسٹ‘‘ کی پالیسی نے عوام کو خاصا فائدہ پہنچایا تھا۔

امریکا میں روزگار کے مواقع بڑھے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر افغانستان میں قیامِ امن کے لیے بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے خاصا متحرک کردار ادا کیا اور تاریخ میں پہلی بار طالبان اور افغانستان حکومت کو ایک میز پر مذاکرات کے لیے بٹھانے میں کامیابی حاصل کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی تھی کہ افغانستان میں طالبان اور برسراقتدار گروپوں کے درمیان پرامن بقائے باہمی کے اصول پر کوئی سمجھوتہ ہو جائے، جس سے خانہ جنگی کے شکار اس ملک میں امن کی راہ بھی ہموار ہو جائے اور امریکا کے مفادات کو نقصان بھی نہ پہنچے۔ ان کی یہ پالیسی خاصی حد تک کامیاب جا رہی تھی۔

پاکستان نے بھی افغانستان میں قیام امن کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ اب چونکہ امریکا میں نئی حکومت آتی ہے تو، یہ دیکھنا پڑے گا کہ وہ اس پالیسی کو کس انداز میں دیکھتی ہے اور کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔ اسی طرح معیشت کے حوالے سے بھی جوبائیڈن کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور دیکھنا پڑے گا کہ وہ اس حوالے سے کیا نئی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں جس سے امریکی معیشت بحال ہو جائے۔ عالمی سطح پر کئی اور تنازع بھی موجود ہیں لیکن امریکا کی خارجہ اور اسٹرٹیجک پالیسیوں میں بہت زیادہ تبدیلیاں رونما نہیں ہوتیں۔ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ماضی کی پالیسیوں کو ہی جاری رکھا جاتا ہے۔

اس کا ثبوت ری پبلکنز کے دورِ صدارت کے بعد جب ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر اوباما اقتدار میں آئے تو تب بھی دہشت گردی کے حوالے سے ان کی پالیسی میں کوئی زیادہ فرق رونما نہیں ہوا۔ افغانستان کے بارے میں بھی ان کی پالیسی کا محور امریکا کا مفاد ہی رہا ہے۔ البتہ ایران کے حوالے سے انھوں نے غیرروایتی پالیسی اختیار کی تھی اور ان کی اس پالیسی کو یورپی یونین کے ممالک کی بھی حمایت حاصل تھی۔ اس پالیسی کے نتیجے میں ایران کے ساتھ جو معاہدہ ہوا تھا اس سے یہ امید پیدا ہو گئی تھی کہ اب امریکا ایران تنازع ختم ہو جائے گا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے آنے کے بعد صورت حال خراب ہو گئی۔

اب جوبائیڈن اس حوالے سے کیا پالیسی اختیار کریں گے، اس کا پتہ بھی حتمی نتیجہ سامنے آنے کے بعد جب وہ صدارت کا عہدہ سنبھالیں گے اور اپنی ٹیم تشکیل دیں گے، سامنے آئے گا۔اس انداز نظر کو ایک کثیر جہتی حمایت بھی حاصل رہے گی کہ امریکی جمہوریت اور انتخابی دوڑ کے حتمی نتیجہ کو امریکی ووٹرز کبھی فراموش نہیں کر سکیں گے، ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی صدر منتخب ہو، اس کے لیے اقتدار پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں کا بستر ثابت ہو گا۔ امریکا کو بڑے مسائل کا سامنا ہے جس میں کورونا، انحطاط پذیر اقتصادی صورتحال اور ماحولیات کی گمبھیرتا سر فہرست ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ اپنی انتخابی تقریر میں نومنتخب صدر دنیا کو کیا پیغام دیتے ہیں۔

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا

میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے