خبریں

تازہ ترین

’الیکشن نتائج سے قطع نظر نسلی امتیاز کے خلاف احتجاج جاری رہے گا‘

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 04 نومبر 2020ء) ساتھ ہی واشنگٹن کے ڈاؤن ٹاؤن میں سینکڑوں افراد نے مارچ کیا اور وہاں ٹریفک بلاک کرتے ہوئے آتش بازی کا مظاہرہ کیا۔ اسی طرح سئییٹل سے نیو یارک تک مختلف شہروں میں منتشر مظاہرے کیے گئے تاہم ووٹنگ کا مرحلہ اختتام کو پہنچنے کے فوراً بعد سنگین تشدد یا بڑے پیمانے پر بدامنی کے واقعات کی تاحال اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔

واشنگٹن

میں مظاہرے بظاہر بڑے پیمانے پر پُرامن رہے تاہم ،”یہ کس کی سڑکیں ہیں؟ یہ ہماری سڑکیں ہیں‘‘، جیسے نعرے فضاؤں میں گونج رہے تھے۔ واشنگٹن کی سڑکوں پر نوجوانوں کے گروپ ناچتے دکھائے دیے۔ انہوں نے بڑے بڑے بینرز اُٹھا رکھے تھے۔ ان میں سے ایک پر لکھا تھا،” ٹرمپ ہر وقت جھوٹ بولتے ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

سینکڑوں مظاہرین نے پورٹ لینڈ، اوریگون، اور سیئیٹل سمیت دیگر مقامات پر ٹرمپ مخالف ریلیاں نکالیں۔

ایک خوش آئند امر یہ ہےکہ پورٹ لینڈ میں مظاہرین نے کہا کہ ان کے مظاہرے پُر امن ہوں گے اور ساتھ ہی ان کا نعرہ یہ تھا،” جمہوریت کو ایسا نظر آنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ امریکی صدارتی انتخابات کے جو بھی نتائج سامنے آئیں، اُن سے قطع نظر، وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور وہ نسلی امتیاز کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔‘‘ پولیس کے دفتر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق چند مظاہرین نے کھُلے عام بندوقیں اُٹھا رکھی تھیں۔

شمالی امریکی ریاست اوریگون کی حکومت نے الیکشن کے موقع پر اپنی ریاست میں نیشنل گارڈ کو اسٹینڈ بائے رکھا ہے۔ کیونکہ اس ریاست کے سب سے بڑے شہر پورٹلینڈ میں رواں سال مئی کے ماہ میں مینیاپولیس کے ایک پولیس افسر کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہو کر ایک سیاہ فام باشندہ جارج فلائیڈ ہلاک ہوا تھا جس کے بعد سے وہاں شبینہ احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

پورٹلینڈ کے میئر ٹڈ ویلر نے اپنے ٹویٹ پیغام میں لکھا،” عوام کو اپنے نظریات اور نقطہ نظرکی وکالت میں اپنی آواز بلند کرنے کے لیے محفوظ ماحول میسر ہونا چاہیے، اس لیے کسی بھی طرح کے تشدد، ڈرانے دھمکانے اور مجرمانہ تخریب کاری کو بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘

ملک کے طول و ارض میں سینکڑوں تاجروں نے الیکشن کے دوران ووٹنگ شروع ہونے سے پہلے ہی اپنی دکانوں کے کھڑکی دروازوں پر حفاظتی بورڈ وغیرہ لگا دیے تھے۔

انہیں خوف تھا کہ ووٹنگ کے دوران کوئی تشدد کی لہر نہ دوڑ جائے۔ زیادہ تر باشندے جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد امریکا بھر میں بھڑکنے والی تشدد کی آگ کے دوبارہ پھیلنے کے امکانات سے خائف تھے۔

واشنگٹن

کی خاتون میئر موریئل باؤسر کے بقول،”کچھ لوگ تباہی اور پریشانیوں کا باعث بننا چاہتے تھے، جس کے سبب الیکشن کے دن جتنا کاروبار بند نظر آیا، میں نے اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں دیکھا، اس نے مجھے بہت افسردہ کر دیا۔‘‘

ک م / اا/ (اے پی، روئٹرز)