خبریں

تازہ ترین

فرانس پر حملہ ہو چکا ہے … عبادت گاہوں اور تعلیمی اداروں کے باہر ہزاروں فوجی تعینات کیے جائیں گے، نیس چرچ حملے کے بعد فرانسیسی صدر کا اعلان

پیرس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اکتوبر2020ء) فرانسیسی صدر میکرون نے اعلان کیا ہے کہ نیس چرچ حملے کے بعد عبادت گاہوں اور تعلیمی اداروں کے باہر ہزاروں فوجی تعینات کیے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق فرانس کے شہر نیس میں واقع چرچ کے قریب جمعرات کے روز ہوئے حملے کے بعد فرانسیسی صدر میکرون کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے۔ فرانسیسی صدر نے ایک مرتبہ پھر نیس میں ہوئے حملے کو اسلامی دہشت گردی کا نام دیا۔ انہوں نے کہا کہ فرانس پر حملہ ہو چکا ہے۔ ہم ان کو اپنے ملک میں کسی قسم کی جگہ نہیں دیں گے۔ فرانسیسی صدر نے اعلان کیا ہے کہ ملک کی عبادت گاہوں اور تعلیمی اداروں کے باہر ہزاروں فوجی تعینات کیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ فرانسیسی میڈیا کے مطابق جمعرات کی صبح نیس شہر میں ایک حملہ آور نے لوگوں پر چاقو سے حملہ کردیا جس میں کم از کم دو افراد ہلاک اور متعدد دیگرزخمی ہوگئے۔

(جاری ہے)

نیس کے میئر کرسٹیان استروسی نے بتایا کہ مشتبہ حملہ آور کو گرفتار کرلیا گیا ۔ انہو ں نے مزید بتایا کہ یہ بظاہر ایک دہشت گردانہ حملہ تھا جو شہر کے نوٹرے ڈیم چرچ کے پاس پیش آیا۔ حملہ آور کا تعلق تیونس سے بتایا جا رہا ہے، جس کی عمر 21 سال ہے۔ جبکہ جمعرات کے روز فرانس کے شہر نیس میں واقع چرچ پر ہوئے حملے کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے بھی ردعمل دیا گیا۔ پاکستان نے فرانس کے شہر نیس میں حملے کی شدید مذمت کی ہے ۔ اس حوالے سے دفتر خارجہ سے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان فرانس کے شہر نیس کے اندر آج ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم قیمتی جانوں کے ضیاع پر رنج وغم اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کرتے ہیں۔ ترجمان نے کہاکہ خاص طورپر عبادت گاہوں کا نشانہ بنانا اور ایسے پر تشدد واقعات کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا۔