October 24, 2020

News PK

Latest Updates

اپوزیشن جماعتیں آج کراچی میں عوامی طاقت کا مظاہرہ کریں گی

سیاسی جماعتوں نے تیاریاں مکمل کرلیں، باغ جناح کے پنڈال میں 50 ہزار کرسیاں لگادی گئیں، ملک بھر سے قافلے پہنچنا شروع ہوگئے (فوٹو : فائل)

سیاسی جماعتوں نے تیاریاں مکمل کرلیں، باغ جناح کے پنڈال میں 50 ہزار کرسیاں لگادی گئیں، ملک بھر سے قافلے پہنچنا شروع ہوگئے (فوٹو : فائل)

 کراچی: پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے تحت حکومت مخالف دوسرا جلسہ پیپلز پارٹی کی میزبانی میں آج باغ جناح میں ہوگا جس کے لیے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے مطابق جلسے سے پی ڈی ایم کی مرکزی قیادت خطاب کرے گی جس میں مولانا فضل الرحمن، بلاول بھٹو زرداری، مریم نواز، ایمل ولی خاں، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، شاہ اویس نورانی، علامہ ساجد میر، ڈاکٹر عبدالمالک، افتخارحسین، امیرحیدرخان ہوتی، ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی اور دیگر خطاب کریں گے۔

پنڈال میں 50 ہزار کرسیاں لگادی گئیں

جلسے کے لیے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں، پنڈال میں 50 ہزار کرسیاں لگائی گئی ہیں، جلسہ گاہ کے پانچ مرکزی دروازے ہیں جس میں تین مردوں کے لیے، ایک خواتین اور ایک دروازہ مرکزی قائدین کی آمدورفت کے لیے مختص ہے۔ جلسہ گاہ میں تمام جماعتوں کے پرچم اور خیر مقدمی بینر آویزاں کیے گئے ہیں۔

یہ پڑھیں : اپوزیشن اور وزیراعظم کے جلسوں میں جنرلوں کا نام لینے پرافسوس ہے، بلاول بھٹو

جلسہ گاہ میں ساؤنڈ اور لائٹنگ کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جلسے کا اسٹیج کنٹینر سے بنایا گیا ہے جو 20 فٹ اونچا، 160 فٹ چوڑا اور 160 فٹ لمبا ہے۔ جلسہ گاہ میں پیپلز پارٹی کے 15 سو ورکرز ڈیوٹی انجام دیں گے۔ اس حوالے سے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جس میں اندرونی سیکیورٹی کے علاوہ ٹریفک کنٹرول، پانی پلانے، کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کرانے اور دیگر امورکی انجام دہی شامل ہے۔

جلسہ گاہ میں خواتین کے لیے الگ جگہ مختص کی گئی ہے جہاں پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی ورکرزڈیوٹی انجام دیں گی۔ جلسہ گاہ کے اطراف میں انتظامیہ کے ساتھ مل کر پارکنگ اور سیکیورٹی کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں اور مختلف قافلوں کی آمد کے لیے مختلف روٹ کا تعین کیا گیا ہے۔ جلسہ گاہ میں داخلے سے پہلے تمام داخلی گیٹ پر واک تھرو گیٹ رکھے گئے ہیں منتظمین جلسہ کی جانب سے شرکا میں ماسک فراہم کیے جائیں گے اور داخلے سے قبل شرکا کے ہاتھوں کو سینیٹائزڈ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : اپوزیشن کا عوامی طاقت کا پہلا مظاہرہ، حکومت کو جلد اقتدار سے محروم کرنے کا اعلان

جلسے کا آغاز اتوار کو شام ساڑھے 4 بجے ہوگا۔ جلسے کے اسٹیج پر مرکزی اسکرین کے ساتھ 80 فٹ طویل اور 80 فٹ چوڑی ایس ایم بی اسکرین نصب کی گئی ہے۔ اسٹیج پر اسکرین کے نیچے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کا بینر آویزاں کیا جائے گا جس پرمرکزی قائدین کی تصاویر ہوں گی۔

آصف زرداری شرکت نہیں کرسکیں گے

جلسہ گاہ کے اطراف سڑکوں پر بھی ساؤنڈ سسٹم نصب کیا گیا ہے جلسہ گاہ میں پانی اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی کے بھی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ جلسے سے مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کا ویڈیو لنک خطاب متوقع ہے جبکہ سابق صدر آصف علی زرداری بھی علیل ہونے کی وجہ سے جلسے میں شریک نہیں ہوں گے اور ان کے ویڈیو لنک خطاب کا بھی امکان نہیں ہے۔

فضل الرحمان اور بلاول کراچی پہنچ گئے

جلسے کے لیے مولانا فضل الرحمن، بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر ساجد میر ہفتے کی شام کراچی پہنچ چکے ہیں جبکہ مریم نواز، ایمل ولی سمیت دیگر جماعتوں کے قائدین آج اتوار کو کراچی پہنچیں گے۔

مریم نواز آج پہنچیں گی، مزار قائد پر حاضری دیں گی

ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب کے مطابق مریم نواز شریف اتوار کی صبح 11 بجے لاہور سے کراچی کے لیے روانہ ہوں گی، وہ بابائے قوم قائداعظم کے مزار اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے مزار پر حاضری دیں گی بعد ازاں جلسے میں شرکت کریں گی۔

سیکیورٹی کے لیے 4800 پولیس افسران و اہلکاروں تعینات

دریں اثنا کراچی پولیس نے جلسے کی سیکیورٹی کے انتظامات مکمل کرلیے۔ باغ جناح میں آج 4 ہزار 800 سے زائد پولیس افسران و اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی میں 30 سینئر پولیس افسران کے سوا 65 ڈی ایس پیز، 870 سب انسپکٹر اور اے ایس آئی  جب کہ 3 ہزار 740 پولیس اہلکار شامل ہوں گے۔