October 25, 2020

News PK

Latest Updates

5 ہزار سے زائد کلو وزنی، دریافت ہونے والا جنگ عظیم دوم کا سب سے بڑا بم ناکارہ بنانے کی کوشش کے دوران تباہ ہوگیا … ارتھ کوئیک بم 1945 میں رائل ایئرفورس نازی وارشپ پر حملے کے … مزید


ارتھ کوئیک بم 1945 میں رائل ایئرفورس نازی وارشپ پر حملے کے دوران گرایا گیا تھا، بم گزشتہ برس شمال مغربی پولینڈ میں واقع ساحلی شہر سوینوجسی کے قریب دریافت ہوا تھا

جمعہ اکتوبر
01:07

5 ہزار سے زائد کلو وزنی، دریافت ہونے والا جنگ عظیم دوم کا سب سے بڑا بم ..
پولینڈ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین – آن لائن۔ 15 اکتوبر2020ء) جنگ عظیم دوم کا 5400
کلو وزنی بم بحیرہ بالٹک میں ناکارہ بنانے کی کوشش کے دوران ہی تباہ ہوگیا
لیکن کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق اس ڈیوائس کو 1945 میں
رائل ایئرفورس نازی وارشپ پر حملے کے دوران گرایا تھا جسے’ ’ٹال بوائے‘‘ کا
نام دیا گیا تھا اور یہ ’’ارتھ کوئیک بم‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے.
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بم گزشتہ برس شمال مغربی پولینڈ میں
واقع ساحلی شہر سوینوجسی کے قریب دریافت ہوا تھا جو 12 میٹر گہرائی میں دبا
ہوا تھا 6 میٹر سے زائد طویل اس بم میں 2.4 ٹن دھماکا خیز مواد موجود تھا
جو تقریباً 3.6 ٹن ٹی این ٹی کے برابر ہی.اس حوالے سے پولش نیوی نے کہا کہ
انہوں نے پہلے کنٹرول شدہ دھماکے کا روایتی آپشن اختیار کرنے کا سوچا تھا
لیکن 500 میٹر کے فاصلے پر واقع پل کو نقصان کے خوف سے ایسا نہیں کیا تھا
اس کے بجائے انہوں نے ڈیفلیگریشن کی تکنیک کے استعمال کا ارادہ کیا جس میں
ایک ریموٹ کنٹرول ڈیوائس کے استعمال سے کسی دھماکے کے بغیر دھماکا خیز مواد
کو جلایا جانا تھا.تاہم پولش نیوی کے ترجمان نے کہا کہ آخر میں
ڈیفلیگریشن کا عمل، دھماکے میں تبدیل ہوگیا انہوں نے کہا کہ اس عمل میں
براہ راست شامل افراد کو کوئی خطرہ نہیں ہوا تھا، انہوں نے مزید کہا کہ یہ
سمجھا جاسکتا ہے کہ بم ناکارہ ہوگیا. سوینوجسی سٹی ہال کے ترجمان نے بتایا
کہ انہیں ملٹری غوط غوروں کے آپریشن کے دوران کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع
نہیں ہوئی نہ ہی شہر کے انفراسٹرکچر کو کوئی نقصان پہنچا رواں ہفتے آپریشن
کے آغاز سے قبل بم کے مقام سے قریبی علاقوں میں موجودسینکڑوں افراد کو
محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا تھا.ترجمان نے اسے ایک انتہائی نازک کام قرار
دیا تھا کہ ایک ذرا سی وائبریشن سے بھی بم پھٹ سکتا تھا علاوہ ازیں بم کو
ناکارہ بنانے کے آپریشن کے دوران 16 کلومیٹرکے علاقے میں میری ٹائم ٹریفک
بھی معطل کردی گئی تھی. تاریخ دان پیوٹر لاسکوسکی نے اپریل 1945 میں جرمن
کروزر پر رائل ایئر فورس کے چھاپے سے متعلق کتاب میں لکھا ہے کہ جنگ عظیم
دوم کے دوران سوینوجسی اس وقت جرمنی کا حصہ تھا جہاں جرمن نیوی کے اہم ترین
بحری اڈے تھے جن پر بہت زیادہ بمباری کی گئی تھی.جنگ ختم ہونے سے قبل
آخری دنوں میں ریڈ آرمی کی پیش قدمی روکنے کے لیے جہاز پر نصب توپوں کا
استعمال کیا جارہا تھا 16 اپریل 1945 کو رائل ایئرفورس نے 617 اسکواڈرن سے
18لنکاسٹر بمبار بھیجے تھے بمباروں نے 12 ٹال بوائز سے حملہ کیا تھا جن میں
ایک وہ بم بھی شامل تھا جو اس وقت پھٹنے میں ناکام ہوگیا تھا ٹیل بوائے کو
ہدف کے قریب گر کر زیر زمین پھٹنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، جس سے نکلنے
والی شاک ویوز تباہی پھیلاتی تھیں
۔

متعلقہ عنوان :