October 26, 2020

News PK

Latest Updates

پب جی کھیلنے سے کوئی دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، مفتی زبیر … پب جی کے ایک مشن میں بتوں کے سامنے جھکنا پڑتا تھا لیکن مسلمانوں کی جانب سے شدید ردعمل کے بعد گیم کی انتظامیہ … مزید


پب جی کے ایک مشن میں بتوں کے سامنے جھکنا پڑتا تھا لیکن مسلمانوں کی جانب سے شدید ردعمل کے بعد گیم کی انتظامیہ نے وہ فیچر نکال دیا جس کے بعد اس کے کھینے والوں پر کفر یا شرک کا فتویٰ نہیں لگ سکتا: معروف مذہبی اسکالر

Shehryar Abbasi شہریار عباسی
بدھ اکتوبر
00:50

پب جی کھیلنے سے کوئی دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، مفتی زبیر
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 13 اکتوبر2020ء) معروف مذہبی اسکالر مفتی زبیر نے کہا ہے کہ پب جی کھیلنے سے کوئی دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔
تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مفتی زبیر نے کہا کہ فتویٰ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن نے اپنی مرضی سے نہیں دیا بلکہ کسی شخص کے پوچھے گئے سوال پر اس کا جواب دیا گیا ہے۔ چونکہ سوال پوچھنے والے نے غلط بیانی سے کام لیا تھا اس لیے مفتیان کرام نے ایسافتویٰ دیا تھا۔ مفتی زبیر کا کہنا تھا کہ چار ماہ پہلے جب پب جی بین ہوئی تھی تو اس وقت یہی مسئلہ سامنے آیا تھا کہ اس کے ایک مشن میں بتوں کے سامنے جھکنا پڑتا تھا لیکن مسلمانوں کی جانب سے شدید ردعمل کے بعد گیم کی انتظامیہ نے وہ فیچر نکال دیا جس کے بعد اس کے کھینے والوں پر کفر یا شرک کا فتویٰ نہیں لگ سکتا۔

(جاری ہے)

مفتی زبیر کا مزید کہنا تھا کہ علماء و مفتیان کرام ٹیکنالوجی سے آگاہ ہیں اور اس کے فروغ کو مثبت عمل سمجھتے ہیں، سوشل میڈیا پر غلط پراپیگنڈا کیا جاتا ہےکہ مذہبی لوگ ٹیکنالوجی کے خلاف جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

واضح رہے کہ مفتی زبیر کا کہنا تھا کہ پب جی کھیلنے سے کوئی مشرک یا کافر تو نہیں ہوتا لیکن اسلامی اعتبار سے وقت کے ضیاع و دیگر وجوہات کی بنا پر ہم پب جی کھیلنے کوناجائز عمل سمجھتے ہیں۔یاد رہے کہ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کی ویب سائٹ پر ایک شخص نے سوال کیا تھا کہ ان کے محلے کے خطیب نے جمعہ کے خطبے میں کہا کہ پب جی کھیلنے سے مسلمان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور اس کا نکاح بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ جس کے جواب میں جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے مفتیان کی جانب سے یہ فتویٰ دیا گیا۔ یہ فتویٰ جامعہ کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔ فتوے کی نقول سوشل میڈیا پر بھی بڑی تعداد میں پوسٹ کی گئی تھیں اور اس معاملے پر نئی بحث چھڑ گئی تھی۔

متعلقہ عنوان :