August 8, 2020

News PK

Latest Updates

یہ مولی نہیں، بلکہ ’’سورج مکھی کھیرا‘‘ ہے!

سورج مکھی کہلانے والے انسانوں کی سفید جلد کی طرح یہ کھیرے بھی بالکل سفید ہوتے ہیں۔ (تصاویر: سوشل میڈیا)

سورج مکھی کہلانے والے انسانوں کی سفید جلد کی طرح یہ کھیرے بھی بالکل سفید ہوتے ہیں۔ (تصاویر: سوشل میڈیا)

پورٹ لینڈ: تصویر میں دکھائی دینے والی سفید سبزی بظاہر مُولی لگ رہی ہے لیکن درحقیقت یہ ایک خاص طرح کا کھیرا ہے جسے انگریزی میں ’’البینو کمکبر‘‘ اور اُردو میں ’’سورج مکھی کھیرا‘‘ کہا جاتا ہے۔

یہ اس لیے ہے کیونکہ ’’سورج مکھی‘‘ کہلانے والے انسانوں کی بالکل سفید جلد کی طرح یہ کھیرے بھی اندر اور باہر سے بالکل سفید ہوتے ہیں۔ تاہم کسی بیماری کی وجہ سے ایسا نہیں ہوتا بلکہ یہی اس کھیرے کی سب سے خاص بات ہے۔

سفید کھیرے یا البینو ککمبرز سب سے پہلے 1893 میں ایک امریکی کمپنی نے تجارتی پیمانے پر فروخت کرنا شروع کیے تھے، لیکن عام کھیروں کے مقابلے میں بہت زیادہ مہنگے ہونے کی وجہ سے ان کی مقبولیت کچھ خاص نہ ہوسکی۔

اکیسویں صدی میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی بدولت ان کی مقبولیت میں اضافہ ہونا شروع ہوا جبکہ مختلف اداروں نے سفید کھیرے اور ان کے بیج آن لائن بھی فروخت کرنا شروع کردیئے۔ آج یہ وائٹ ونڈر، آئیووری کنگ، جیک فروسٹ، لینڈریتھس وائٹ سلائسنگ اور وائٹ البینو جیسے ناموں سے دستیاب ہے۔

سفید کھیرے کے بیج فروخت کرنے والی ایک کمپنی کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ دیکھنے میں سفید ہوتے ہیں مگر ان میں ذرا بھی کڑواہٹ نہیں ہوتی اور ان کا سفید چھلکا اتنا باریک ہوتا ہے کہ اسے اتارے بغیر بھی یہ کھیرے کھائے جاسکتے ہیں۔ انہیں کسی بھی قسم کی سلاد اور اچار میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔